سلطنتِ خدام نعت کے شہنشاہ سے ایک ملاقات

سلطنتِ
خدام نعت کے شہنشاہ سے ایک ملاقات

غلام
ربانی فداؔ

آپ
عنوان سے چونک گئے ہوں گے؟ اگرنام جان لیں گے توآپ بھی انہیں ضرور اسی لقب سے یاد
فرمائیں گے۔مارچ
۲۰۱۱؁
میرے لئے بہت مبارک ثابت ہوا۔چھ ماہ سے جن کی ملاقات کے لئے بیتاب تھا ۔وہ وقت قریب
آگیا۔
۳۰  اپریل  ۲۰۱۱ راقم الحروف اور
میرابرادرِ اصغر محمدرفیق داونگیرہ ریلوے اسٹیشن سے ہندوستان کے مہاراجہ اجمیر کے
خواجہ کے دربار کی زیارت کے لئے روانہ ہوگئے۔اور
۴ ۔۵ مارچ کو علامہ
سیدمحمدمدنی میاں مدظلہ کی دورِ سجادگی کی پچاس سال مکمل ہونے پر محدثِ اعظم مشن
گجرات نے  انٹرنشنیل محدث اعظم کانفرنس
منعقد کی تھی جس میں شرکت کرنی تھی۔ہم لو گ اجمیرسے احمدآباد اور وہاں سے ہوتے
ہوئے بھروچ واگھرا پہنچ گئے۔
واگھرا
پہنچتے ہی میں آبروئے صحافت حضرت العلام مولانا خوشترنورانی صاحب  مدیر اعلیٰ ماہنامہ جامِ نور دہلی سے فون پر
رابطہ کیا ۔معلوم ہوا کہ موصوف اور سلطنتِ خدامِ نعت کے شہنشاہ ممتازثناخواں عالمِ
اسلام کے مشہورشاعرورئیس الشعرا محترم سید صبیح الدین صبیح رحمانی مدیرنعت رنگ
کراچی بس تھوڑی دیرمیں واگھرا پہنچنے والے ہیں۔ہم لوگ حضرت علامہ  مدنی میاں صاحب سے ملاقات کے لئے  روانہ ہوگئے نورانی چہرا دیکھتے ہی دیکھتے رہ
گئے حضورِ والا کاچہرا بہتوںمرتبہ میں نے دیکھاتھا مگراس دن کی نورانیت ہی کچھ اور
تھی۔
خیر
ہم لوگ ڈھائی بجے ہی شہنشاہ خدام نعت کی قیام گاہ پر پہنچ گئے ۔مگردربان دروازے پر
رکے رکھا۔خداخداکرکے تقریباََ ساڑھے تین گھنٹے انتظار کے بعدچھ بجے محترم صبیح
صاحب سے ملاقات کے لئے صرف دس منٹ کے وقت کی پابندی کے ساتھ آپ کی آرام گاہ لے
گیا۔اب تک میری صرف فون اور انٹرنیٹ سے رابطہ ہواتھا آج میں اپنے ماتھے کی
آنکھوں سے اس چہرے کو بالکل قریب سے دیکھ رہاتھا ۔جسے ٹی وی کے اسکرین پر
دیکھاکرتاتھا۔وہیں مولانا خوشترنورانی بھی تشریف فرماتھے۔ اس وقت جہان نعت کادوسرا
شمارہ شائع ہوگیا تھا۔جہان نعت کی نشرواشاعت اس میں شامل مواد کے حوالے سے
گفتگوہوئی اور خاص طورپہ گوشۂ فرحت حسین خوشدل کے حوالے سے ۔ْمجھے سخت حیرت ہوئی
اس بات پرکہ بقلمِ خود اپنے آپ کو برصغیرکامشہورشاعروغیرہ لکھناوالا۔صبیح رحمانی
صاحب کے پیشتراشعار چرالیاہے۔صبیح صاحب نے کچھ ایسے ہی الفاظ میں فرمایا۔فداؔ
بھائی۔۔میںآپ کے خوشدل  سے بہت بددل
ہواہوں میرے مشہورنعتوںکے پورے پورے مصرعے چرالیئے ہیں۔  یہ مختصرسی ملاقات سہی مگرمیرے لئے کسی نعمت سے
کم نہیں۔میںایک نئے جذبے اور خدمت نعت کے لئے نئے ولولے ساتھ روانہ ہوا۔  اصاغرنوازی ہمارے اکابر پاکستانی اکابرسے
سیکھیں۔