سنگ کو سختی گل کونزاکت دی رب نے

سنگ
کو سختی گل کونزاکت دی رب نے
جیسی
تھی جس شئے کوضرورت دی رب نے
جوحرا
سے نکل کرصفاتک گئی
سینے
میں دل،دل میں محبت دی رب نے
روشنی
آگ ،ہوا پانی بجلی
ہم
کوبن مانگے ہرنعمت دی رب نے
میری
محنت میں اس کی طاقت شامل   
      
مرے
ہرلقمے میں برکت دی رب نے
حمدکہاں میں ورنہ
حافظ کہہ پاتا
سوچوں اورلبوں کو
جرات دی رب نے
حافظ کرناٹکی