خطاب تم سے ہے یٰسین! صاحب ِ رفعت قسم کتابِ مبیں کی جو ہے بڑی حکمت سورۂ یٰسینسورۂ یٰسین

سورۂ یٰسین منظوم ترجمہ

ابرارؔ کرتپوری

خطاب تم سے ہے یٰسین! صاحب ِ رفعت
قسم کتابِ مبیں کی جو ہے بڑی حکمت
تم اے حبیب بلاشک پیمبروں میں سے ہو
خدا کے بھیجے ہوئے راست رہبروں میں سے ہو
ہوئی تھی جن کے نہ اجداد کو کبھی تنبیہ
جو غفلتوں میں ہیں ان کو نبی کرو تنبیہ
ہوئی ہے اُن میں سے حجت تمام اکثر پر
نہ لائیں گے کبھی ایمان ربِّ داور پر
نہ سر ٹھکانے ہیں اُن کے نہ ہوش دامن میں
وہ طوقِ بے حسی ڈالے ہیں ہم نے گردن میں
ہے آگے پیچھے سبھی کے حصار اور پردہ
حواس خبط ہیں ان کے نگاہ بے جلوہ
تم اس بشر کو نصیحت کرو جو دل سے سنے
ڈرے خدا سے فضیحت کی پیروی بھی کرے
ہے جس کے دل میں ضیا صدق کی پرستش کی
سنا دو اس کو بشارت ثواب و بخشش کی
ہم ایک روز وہ آئے گا دستِ حکمت سے
کریں گے مردوں کو پھر زندہ اپنی قدرت سے
عمل جو بھیج چکے آگے دورِ ماضی میں
نشاں جو رہ گئے پیچھے جہانِ معنی میں
کہا یہ اس نے مری قوم غور سے یہ سنو!
پیمبروں کا خدا کے تو اتّباع کرو!
صلہ جو تم سے نہیں مانگتے بفضلِ خدا
وہ سیدھے رستے پہ ہیں شک نہیں ہے اس میں ذرا
نہ کیسے پوجوں کہ وہ خالقِ زمانہ ہے
اُسی کے پاس ہمیں لوٹ کر بھی جانا ہے
میں کیسے چھوڑوں اُسے اور کو کروں معبود
وہ ربُّ العالمیں جو ہے سعید اور مسعود
جو کرنا چاہے خُدا میرے حق میں کچھ نقصان
نہ کام آئے کسی کی سفارش و فیضان
عذابِ کفر سے جھوٹے خدا بچا نہ سکیں
گرفت ہو جو مری، وہ مجھے چھڑا نہ سکیں
جو پہنچا غیر خدائوں میں گمرہی میں رہا
سو میری بات رکھو سن کے اے نبیؐ ِخدا
ملا ہے مجھ کو مقدر سے آج یہ فیضان
کہ لا رہا ہوں تمہارے خدا پہ میں ایمان
ہوا یہ غیب سے تب اس کو حکمِ ربِّ علیٰ
بہشتِ خاص میں اے بندے داخلہ فرما
وہ بولا کاش مری قوم پہ ہو یہ اظہار
کہ مجھ کو بخشا خدا نے دیا ہے عز ّو وقار
اتارا ہم نے ہی لشکر بھی قوم پر اس کی
اتارنے کی ہماری نہ کوئی مرضی تھی
وہ صرف ایک تھی چنگھاڑ آتشیں جس سے
تھے جتنے ناگہاں بجھ کر وہ رہ گئے سارے
ہمیں تو ہوتا ہے افسوس ایسے بندوں پر
پیمبروں کی نہ مانی رہے مذاقوں پر
انہوں نے دیکھا نہیں کیا؟ کہ ان سے پہلے جو
ہوئے ہلاک اب ان تک کبھی نہ آئیں گے
سو سب کے سب ہی بہت جلد دن وہ آئیں گے
ہمارے رو برو حاضر کئے وہ جائیں گے
زمین مردہ نشانی ہے ایک ان کے لئے
کہ ہم نے اس کو کیا زندہ اور اناج اُگے
کہ خورد و نوش کو جاری کئے بہت چشمے
اگائے باغ کچھ انگور اور کھجوروں کے
بنائی ہاتھوں نے کیا ان کے ایسی ایک بھی شئے
یہ لوگ کیسے ہیں پھر؟ شکر کیوں نہیں کرتے
خدائے پاک ہے جس نے زمین کی تخلیق
بنائی چیزیں نباتات سب بنا تحقیق
جہاں میں ہم نے سبھی کے بنائے ہیں جوڑے
نشانی سب کے لئے ہے وہ جس کو شب کہئے
جب اس سے کھینچتے ہیں دن اندھیرا ہوتا ہے
اور اپنی راہِ مقرر پہ شمس چلتا ہے
خدائے غالب و دانا کا ہے یہ اندازہ
مقرر اس نے کیا ماہتاب کا رستہ
جو گھٹ کے ہوتا ہے شاخِ کھجور کی مانند
نگاہیں دیکھتی ہیں اس کو حور کی مانند
نہ شب کو حکم کہ آجائے پیشتر دن سے
نہ تاب مہر کو اتنی کہ چاند کو چھو لے
سب اپنے دائروں میں تیرتے ہیں سیارے
غبارے جیسے خلا میں وہاں چلیں سارے
اور ایک ان کی اُنہیں ہم نے یہ نشانی دی
سوار نائو میں اولاد کو کیا اُن کی
ہر اک پسند کی ان کو مسرّتیں بخشیں
سوار ہوتے ہیں جن پر وہ ان کو چیزیں دیں
ہماری مرضی اگر ہو تو ان کو غرق کریں
ملے رہائی نہ فریاد پر ہی کان دھریں
ہمارا لطف و کرم ہے ہماری رحمت ہے
مگر تمام مفادات کی بھی مدت ہے
کہا کہ ماضی و آئندہ سے ڈرو لوگو!
ہمارا رحم و کرم تاکہ تم پہ ہو لوگو!
نشانی رب کی نہیں آئی ان کے پاس کوئی
یہ منہ کو پھیرتے ہیں کچھ عجیب بات رہی
جو کہئے ان سے ذرا اس میں سے تو خرچ کرو
جو رزق تم کو خدا نے دیا ہے اے بندو!
غلط ہو کہتے ہیں کافر یہ مومنوں سے بھلا
کھلائیں ہم انہیں رب جن کو خود کھلا دیتا
پھر ان سے کہتے ہیں سچ ہے اگر تمہارا کہا
تو یہ بتائو ہمیں وعدہ کب وہ ہوگا وفا
یہ منتظر ہیں کہ چنگھاڑ ایک آئے گی
انہیں جھگڑتے بگڑتے جو آکے پکڑے گی
پھر ان کو وقت نہ مل پائے گا وصیت کا
نہ کوئی لوٹ کے اپنے گھروں کو جائے گا
پھر ایسا ہوگا سرافیلؔ صور پھونکیں گے
نکل کے قبر سے یہ رب کی سمت دوڑیں گے
کہیں گے کون جگانے یہاں پہ آیا ہے
کہ خواب گاہوں سے کس نے ہمیں اٹھایا ہے
خدا نے وعدہ کیا تھا وہ جس کا ہے یہ وہی
وہ سچ ہی کہتے تھے حق کے پیمبر اور نبی
کہ صرف زور کی آواز ایک دن ہوگی
ہمارے روبرو پھر ہوگی حاضری سب کی
کیا نہ جائے گا اس روز ظلم انساں پر
عمل عمل کے مطابق ملے گی سب کو خبر
وہ جنتی جو ہیں عیش و نشاط میں ہوں گے
اور اپنی بیویوں سے ارتباط میں ہوں گے
گھنیری چھائوں پر تکئے بھی تخت پر ہوں گے
وہاں وہ ناز سے بیٹھیں گے مفتخر ہوں گے
تمام نعمتیں میوے وہ جو بھی چاہیں گے
خدا کے لطف و کرم سے وہی وہ پائیں گے
جو مہربان ہیں پروردگار عالم میں
طرف سے اُن کی کیا جائے گا سلام انہیں
کہے گا رب یہ گنہگاروں سے الگ ہوجائو
کہا تھا ہم نے کبھی تم سے آج پچھتائو
کبھی نہ پوجنا اس کو کہ دشمن جاں ہے
یہ ہم نے تم سے کہا تھا کھلا وہ شیطاں ہے
یہی ہے راستہ سیدھا اسی پہ چلنا تم
خلوصِ دل سے عبادت مری ہی کرنا تم
کیا تھا تم میں سے گمراہ اُس نے اکثر کو
تو کیا سمجھتے نہ تھے تم لعیں کے تیور کو
یہی وہ آتشِ دوزخ ہے یہ وہ عالم ہے
خبر ملی تھی تمہیں جس کی وہ جہنم ہے
تمہارا کفر عمل تھا تھے جس کے نرغے میں
ہو آج داخلِ دوزخ اسی کے بدلے میں
لبوں پہ مہر لگا دیں گے آج ہم ان کے
انہوں جو بھی کیا دست و پا بتائیں گے
جو چاہیں ہم تو مٹا دیں سبھی کی آنکھوں کو
یہ دوڑیں بھٹکیں مگر پا سکیں نہ رستوں کو
ہم ان کی صورتیں چاہیں اگر بدل ڈالیں
نہ پھر یہ آگے ہی جائیں نہ پیچھے لوٹ سکیں
یہ کیا سمجھتے نہیں! عمر جس کو ہم بخشیں
اسے جو چاہیں تو اوندھا بھی خلق میں کردیں
سکھائی شاعری کب ہم نے ان پیمبر کو
نہ ان کو شایاں ہے فکرِ سخن یہ تم سن لو!
یہ صاف صاف ہے قرآں کتابِ حکمت ہے
یہ صرف درسِ صداقت محض نصیحت ہے
دکھائے راستہ زندوں کو تاکہ حکمت کا
ہو کافروں پہ دقیقہ تمام حجت کا
یہ چارپائے بھی ان میں سے ہیں انہیں کے لئے
خبر ہے ان کو جو اشیاء بنائی ہیں ہم نے
سواری کرتے کسی کی کسی کو کھاتے ہیں
کیا ہے قابو میں اور حکم بھی چلاتے ہیں
ہر ایک شئے میں بہت فائدے ہیں اِن کے لئے
یہ اتنا ہونے پہ بھی شکر کیوں نہیں کرتے
سوا خدا کے انہوں نے بنائے ہیں معبود
کہ ان کو کوئی ملے گی مدد ملے گا جود
مگر وہ ان کی مدد کی سکت نہیں رکھتے
وہ بس میں اپنے زیاں منفعت نہیں رکھتے
تو ان کی بات کا اب غم نہ کھا تو اے بندے!
ہماری بات یہ دل لگا تو اے بندے!
ہے پورا علم ہمیں کیا عیاں ہے مخفی کیا
جو چاہتے ہیں چھپاتے ہیں ہیں، کرتے ہیں افشا
سمجھ میں دیکھ کے بھی اُس کے کب یہ آیا ہے
کہ ہم نے اُس کوبس اک بوند سے بنایا ہے
جھگڑنا بولنا پھر بھی ہے کاروبار اس کا
بٹھانا ہم پہ کہاوت ہوا شعار اس کا
ہوا ہے جس طرح پیدا یہ بھول بیٹھا ہے
چلیں گی کیسے بھلا ہڈیاں یہ کہتا ہے
تو اُس سے کہہ دو اے گیٰسین! صاحبِ کردار
وہی چلائے گا جس نے بنایا پہلی بار
وہی تو قادرِ مطلق ہے اور خالق ہے
رضا کے اس کی ہر اک چیز یاں مطابق ہے
اُسی نے آگ تمہیں سبز پیڑ سے دی ہے
سلگ کے اب وہ تمہارے جو کام آتی ہے
بنائے ارض و سما جس نے اک اشارے سے
بشر وہ ایسے بنادے یہ عین ممکن ہے
وہی ہے خالقِ یکتا وہی ہے عالم بھی
وہ کن کہے تو ہو تخلیق وہ ہے حاکم بھی
وہ پاک ذات ہے وہ صاحبِ حکومت ہے
ہر ایک چیز پہ خالق کی بادشاہت ہے
یہی ہے ایک حقیقت جسے بتانا ہے
ہمیں اُسی کی طرف کل کو لوٹ جانا ہے

 

 

naat lyrics in urdu images new naat lyrics new naat lyrics new naat lyrics images of naat in urdu best naat in the world lyrics naat written in urdu naat lyrics in urdu free download