سوزِ دروں دے دیدۂ تر دے یااللہ مانگوں دعا تو اس میں اثر دے یااللہ

حفیظؔ محمود

سوزِ دروں دے دیدۂ تر دے یااللہ
مانگوں دعا تو اس میں اثر دے یااللہ
سچی طلب اور شوق کے پردے یااللہ
طیبہ کی راہوں کا سفر دے یااللہ
گنبدِ خضرا‘ کعبۂ اشرف‘ غارِ حرا
آنکھوں کو ایسے منظر دے یااللہ
بخش مجھے کچھ عشق نبیؐ کے قلزم سے
پلکوں پر اشکوں کے گہر دے یااللہ
سیدھی سچی راہ چلا ہم کو یارب
عصیاں کی راہوں سے مفردے یااللہ
معرفت حق سے روشن فرمادل کو
چاک ہوں سب ظلمت کے پردے یااللہ
عرفانی اوقات عطا کر اے داتا
نورانی شام اور سحر دے یااللہ
دیکھ سکے جو تیری دید کے منظر کو
روزِ قیامت ایسی نظر دے یااللہ
تیز ہو جب سورج کی تپش محشر کے دن
رحمت کا سایہ سر پر دے یااللہ
آسائش میں شکر کا جامہ مشکل میں
صبرو قناعت کی چادر دے یااللہ
گھیرے میں کفار کے ہیں ایماں والے
کوئی عمرؓ جیسا رہبر دے یااللہ
ہو تیرا منظورِ نظر ہر شعر مرا
شعرو سخن میں بھی وہ ہنر دے یااللہ
بخش حفیظؔ غمگیں کو اچھی قسمت
دنیا اور عقبیٰ بہتر دے یااللہ