سہیل غازی پوری …ایک منفرد نعت گو

سہیل غازی پوری …ایک منفرد نعت گو

فرحت
حسین خوشدل

سہیل
غازی پوری کا نام اردو دنیا میں کئی جہت سے نمایاں ہے، موصوف کئی برسوں سے اردو کا
ایک مشہور رسالہ ’’شاعری‘‘ کراچی سے نکال رہے ہیں۔ یہ رسالہ اس معنی میں منفرد ہے
کہ اس میں اردو دنیا کے مشہور و معروف شعرا کی معیاری تخلیقات شائع ہوتی ہیں۔ نیز
اس رسالے میں ہر تحریربشکلِ شعری ہوتی ہے۔ اس میں موصوف کا لکھا ہر تنصرہ منظوم
ہوتا ہے جو اپنی انفرادیت کے لیے مشہور ہے یہ تبصرے ’’ باتیں سخن وروں کی‘‘ کے نام
سے دو جلدوں میں شائع ہو کر منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ ان دو مجموعوں کو چھوڑ کر اب
تک موصوف کے نو مجموعے
۱۹۸۲ء
تا
۲۰۰۹ء
شائع ہوچکے ہیں۔ یہ سب شعری مجموعے ہیں۔ شاعری میں وہ حمد، نعت، غزل، ہائیکو، نظم
کہنے میں زبردست مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا پہلا نعتیہ مجموعہ ’’شہرِ علم‘‘
۱۹۸۷؁ء میں شائع ہوکر
مقبولِ خاص و عام ہوا۔ ان کا دوسرا حمدیہ و نعتیہ مجموعہ ’’مکّہ سے مدینے‘‘ کی
اشاعت
۲۰۰۹ء
میں ہوئی۔
دیگر
کتابوں کی طرح اس کتا ب کی بھی خوب پذیرائی ہوئی ۔مؤخرالذکر کتاب کی روشنی میں
سہیل غازی پوری کی نعتیہ شاعری پر مجھے بات کرنی ہے۔ لیکن اس سے قبل نعت گوئی کے
آداب اور اس کے بنیادی تقاضوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اس
بات کا اندازہ ہو سکے کہ سہیل غازی پوری نے اپنی نعتوں میں نعت گوئی کے آداب اور
اس کے بنیادی تقاضوں کو پورا کیا ہے یانہیں۔
اس
حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ نعت کا موضوع ہماری زندگی کا ایک نہایت اور
وسیع موضوع ہونے کے ساتھ مشکل اور دشوار گزار موضوع ہے۔ اس راہ کی دشواریاں اتنی
ہیں کہ اس میںہر شاعر کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ توحید و رسالت کے فرق کو جانے
بغیر اور اسلام کی صحیح معلومات سے آگاہی کے بغیر اچھی اور عمدہ نعت نہیں کہی جا
سکتی۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس میں بیجا بکواس اور مبالغے اور قیاس آرائی کی ذراسی بھی
گنجائش نہیں۔یہ اتنی خطرناک راہ گزر ہے کہ فارسی کے مشہورومعروف شاعر عرفی کو یہ
کہنا پڑا کہ
عرفی
مشتاب ایںرہِ نعت است نہ صحرا است
آ
ہستہ کہ رہ بردمِ تیغ است قدم را
معلوم
یہ ہو کہ حقیقی نعت کا راستہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز
ہے بقول علامہ ناوک حزہ پوری ’’نعت گوئی کا فن اپنے دونوں طرف خاردار جھاڑیوں والی
تنگ گزرگاہ سے بسلامتی گزر جانے کا فن ہے، تعریف و توصیفِ رسول ﷺ نہ اس قدر مبالغہ
آرائی سے کام لیا جائے کہ وہ شرک کی حدوں کو چھونے لگے نہ ایسا پیرایۂ بیان
اختیار کیا جائے جو آپ ﷺ کے عظمت وشان سے فروتر ہو‘‘ (نعتیہ شاعری کے آداب
)
مذکورہ
بالا اقتباس کی روشنی میں سہیل غازی پوری کی نعتیہ شاعری کا جب ہم نے بنظر غائر
مطالعہ کیا تو یہ محسوس ہوا کہ موصوف نے اپنی نعتوں میں نہ تو مبالغہ آرائی سے
کام لیا ہے نہ ہی ایسا پیرایۂ بیان اختیار کیا ہے جو  شرک کی حدوں کو چھوتاہو  نہ آپ ﷺ کی عظمت وشان سے فروتر ہو۔سہیل غازی
پوری کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ نعتیہ شاعری میں غلو کی ذرا سی بھی گنجائش
نہیںؓ ہے۔اس لیے  وہ کہہ اٹھتے ہیں
چھولو
غلو کی حد نہ کہیں ان کے ذکر میں
ایسے
میں ہوشیار زیادہ رہا کرو
شاعر
کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ
عقبیٰ
بھی سنور جائے یہ دنیا بھی سنور جائے
ہم
گوشۂ دامانِ محمد کو جو تھامیں
حد
پار نہ کر جائے عقیدت کی کسی دن
رہوار
رہِ نعت کی چھوڑے نہ لگامیں
رسولِ
بر حق ﷺ سے عقیدت و محبت ہمارے ایمان کی شرطِ اولین ہے لیکن یہی عقیدت و محبت جب
حد سے تجاوز کر کے سرحدِ الوہیت میں داخل ہوجاتی ہے تو عین  شرک کا مرتکب بنادیتی ہے۔اس کے بر عکس پیرایۂ
بیان اختیار کرنا جو
ـآ
پ کی شان  سے فروتر ہوہمارے نامۂ اعمال
کو  حبط کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے
اعمال
ہوئے حبط جو اونچی ہوئی آواز
ایمان
ہوا ضبط جو اور مگر کی
سہیل
غازی پوری کی نعتیہ شاعری کا امتزاج یہ ہے کہ انہوں نے رہوارِ نعت کی لگاموں کو
کبھی ہاتھ سے چھوڑنے کی دانستہ بھول نہیں کی ہے۔ ’’مکہ سے مدینہ ‘‘ کی پہلی نعت کی
تخلیقیت افروزی سے راقم السطور سرشار ہوگیا آپ اس نعت کے چند  اشعار دیکھئے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب نعت دل سے کہی
جائے گی تو اس میں لازماََ گہرائی و گیرائی و اثر ضرور پیداہوگا
میں
گزاروں جو کبھی آپ کے در پر لمحے
کاش
ہو جائیں وہ صدیوں کے برابرلمحے
پھر
سے غارِ حرا ہے جہاں صدیوں سے
ہے  دھنک
رنگ اجالے تو معطر لمحے
دیکھنے
کے لیے سرکار کو معراج کی شب
اپنے
محور سے نکل آئے تھے  باہرلمحے
اب
جو ٹھہریں گے تو  ٹھہریں گے درِ آقا پر
میرے
ہمراہ چلے ہیں یہی کہہ کر لمحے
شاعر
نے ردیف کو کس قدر خوبصورتی سے برتا ہے اس کی تعریف شاید آپ بھی کریں گے۔تیسرے
شعر میں شاعر کا جمالیاتی اسلوب اور شبِ معراج کی منظر کشی ،ایسی ویڈیو گرافی کی
ہے جس کو پڑھ کر نغمۂ سرمسی کا احساس ہوتا ہے۔لمحے کا اپنے محور سے باہر نکلنا
،اور سرکارِ دو عالمﷺ  کو معراج کی شب
دیکھنا ،ایک ایسا  بلیغ خیال  ہے جس کی مثال میری دانست میں اردو شاعری ہو یا
فارسی شاعری یا عربی میں نظر نہیں آتی۔سچ تو یہ ہے کہ یہ جملے صفحۂ قرطاس  پر قلم برداشتہ آتے چلے گئے ہیں۔ اگر کسی
ناقدینِ فن  کو میرے جملے کی صداقت
پراعتراض ہوتو اس قبیل  کا کوئی شعر پیش کر
نے کی سعادت حاصل کریں۔اول الذکر شعر میں شاعر
یہ خواہش (خود کو مخاطب کر کے) کرتا ہے کہ آپ کے درِ اقدس پہ جو لمحے
گزاروں وہ صدیوں کے برابر ہو جائیں۔
مؤ
خرالذکر شعر کی معنویت دیکھئے  کس خوبصورتی
سے شاعر نے یہ بات کہی ہے کہ
اب
جو ٹھہریں گے تو ٹھہریں گے درِ آقا پر
میرے
ہمراہ چلے ہیں یہی کہہ کر لمحے
سچ
تو یہ ہے کہ سہیل غازی پوری کی مذکورہ نعت سحر انگیزی کی بدولت اس مضمون کو لکھنے
دل آ مادہ ہوا۔ دنیا مانے یا نہ مانے حمدونعت اردو شاعری کی مقدس ترین صنف ہے۔اس
کے تقدس ،اس کی حفاظت ہی ہمارا دینی شعار ہے۔راقم الحروف کو نعت گوئی سے گہرا
لگاؤ ہے اس  لیے میری نظر میں نعت گوئی
جذبوں کی طہارت ہے
نعت
غزلوں کی طہارت سے مملو خوش دلؔ
سامنے
ہو تیرے قرآن یہ کاوش کرنا
سہیل
غازی پوری کی نعتوں میں جذبوں کی طہارت بھی ہے اور قرآن و حدیث کی تعلیمات کی عرق
ریزی بھی، اپنے دعویٰ کی صداقت کے لیے چند اشعار پیش کر رہا ہوں۔
ہے
یہ فرمانِ نبی خدمت سبھی کی کیجیے
کیجیے
ہر گام پر انسانیت کا احترام
اس
عمل سے خوش بہت ہو ںگے محمد مصطفی ﷺ
دشمنوںپر
فتح پا کر بھی نہ لینا انتقام
ویسے
تو ہزاروں شعر کہے لیکن یہ حقیقت واضح ہے۔ جس شعر میں آقا آپ ﷺ نہیں وہ شعر کہاں
مشہور ہوا   ؎
سہیل
اُن کے درِ اقدس پہ جا کر بیٹھئے صاحب
جو
باقی زندگی ہے اب اسے مت رائیگاں کیجیے
اوّل
الذکر شعر میں انسانیت کے احترام کی بات کہی جارہی ہے جو قرآن و حدیث کی تعلیم کا
خاصہ ہے۔ عام طور پر اردو کی نعتیہ شاعری میں اس قبیل کے اشعار کی تعداد بہت ہی کم
ہے۔ دشمنوں پر فتح پانے کے بعد انتقام نہ لینے کی مثال تاریخِ عالم میں کم ہی
ہوگی۔ مؤخرالذکر میں رسولِ بر حقﷺ عقیدت و محبت کے جذبوں کی طہارت اس سے بڑھ کر
اور کیا ہوگی کہ شاعر خود کلامی اور خود گویائی کی صورت میں یہ کہہ اُٹھتا ہے کہ
ان کے درِمقدس پہ جاکر اب تو بیٹھئے جو باقی زندگی بچی ہے وہ دوسری جگہ بیٹھ کر
رائیگاں نہ کیجئے۔ یہ تمام اشعار ایسے ہیں جس میں شاعر نے عشقِ رسول اور تکریم
رسول کی اپنی فکر کا محور بنایا ہے اور تعلیم رسول اور اسلامی اصول کی روشنی میں
مکے سے مدینے تک کا سفر طے کیا ہے۔
اس
مجموعے میں اڑتالیس حمد اور اسّی نعتیں ہیں۔ اُن کی حمدیہ شاعری پر تفصیلی گفتگو
ان شاء اللہ کسی دوسرے مقالے میں کروں گا۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اس مجموعے کی
ہر نعت عقیدت و محبت کی نگاہ سے پڑھنے کے قابل ہے۔ایک نعت کے چند اشعار
دیکھئے   ؎
مصطفیٰ
صلِ علیٰ سے جب دیئے روشن ہوئے
آئینہ
خانے کے سارے آئینے  روشن ہوئے
اسوۂ
سرکار سے جب روشنی مانگی گئی
تب
کتابِ زندگی کے حاشیے  روشن ہوئے
درمیاں
جب آگئے محبوبِ رب العلمیں ﷺ
عبد
کے معبود سے سب رابطے  روشن ہوئے
نعت
پڑھ کر  جب مدینے کی طرف اٹھا قدم
جو
نہ تھے روشن وہ سارے راستے  روشن ہوئے
درج
بالا اشعار سہیل غازی پوری کے نعت گوئی کی خصوصیات کو نہ صرف اجاگر کرتے ہیں بلکہ
نعت کی تخلیقی سچائیوں کے ساتھ عشقِ رسول کا ایک اکمل ترین نمونہ پیش کرتے ہیں۔
سچ
تو یہ ہے کہ سہیل غازی پوری نے سچے عاشقِ رسول کی حیثیت سے رسول اکرم ﷺ کی ذاتِ
ستودہ  صفات کی مدحت سرائی کو بخوبی انجام
دیا ہے ۔اوّل الذکر شعر کی عالم گیر سچائی سے کون انکار کرسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ
کے بعثت سے آئینے خانے کے سارے آئینے روشن ہوگئے۔
’’لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ‘‘ کی ترجمانی کرتا ہوا
مذکورہ دوسرا شعر ۔معنی کے اعتبار سے  اپنے
اندر ایک جہانِ معنی رکھتا ہے اللہ نے اپنے محبوب کی اسوۂ حسنہ کو نمونۂ کامل
بتایاہے۔ اس کو جس نے ماڈل بنایا اس کی کتابِ زندگی کے تمام حاشیے یخ لخت روشن
ہوگئے۔ یہ ماڈل ایسا ہے جو روزِ قیامت تک نسلِ انسانی کے کام آسکتا ہے۔تیسرے شعر
کی جامعیت اس نقطے میں مضمر ہے کہ عبد و معبود کے سب راستے روشن ہوئے جب محبوب رب
العلمین ﷺ نے عبد و معبود کے بیچ کڑی کا کام کیا۔ اس ضمن میں راقم الحروف کے درج ذیل
بند ملاحظہ فرمائیں   ؎
آپ
ﷺ کو بخشا خدانے ایسا عرفانِ یقین
حکمِ
رب سے ہٹ کے اک لمحہ کبھی گزرا نہیں
رات
کے پچھلے پہر رہتی تھی سجدے میں جبیں
عبدومعبود
کے رشتے پہ کی حجت تمام
السلام
اے صاحب عرفان لے میرا سلام
آپ
ﷺ پر لاکھوں ہو درود اور لاکھوں سلام
مؤخرالذکر
شعر میں شاعر کی نعت سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم ہے کہ وہ بڑے ہی تیقن کے ساتھ یہ
کہتاہے کہ نعت پڑھ کر میں نے جب مدینے کی طرف قدم بڑھائے وہ راستے بھی روشن ہو گئے
جو پہلے روشن نہ تھے۔
سہیل
غازی پوری کے مجموعے میں جا بجا شہرِ مدینہ کا ذکر بڑی عقیدت ومحبت کے ساتھ آیا
ہے۔ ظاہر ہے مدینہ اور صاحبِ مدینہ کے ذکرِ کے بغیر نعت کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔
چند
اشعار دیکھیے   ؎
ہماری
زندگی کیا ہے مزہ کیا آئے جینے میں
ادھر
ہم ہیں کرچی میں ادھر آقا مدینے میں
چھوکر
نبی کے پاؤں کو یکتائی مل گئی
خاکِ
مدینہ تجھ کو مسیحائی مل گئی
میں
تھا، دل کی دھڑکنیں تھی اور ذکرِ مصطفی ﷺ
آج
تک طیبہ کا وہ پہلا سفر یاد ہے
اوّل
الذکر شعر میں اگر سچائی ہے تو یہ شعر میری نظر میں جذبات کی طہارت سے مملو ہے اگر
اس میں جھوٹ کی آمیزش ہے تو اس سے اللہ ہم سب کو محفوظ رکھے۔
مؤخرالذکر
شعر اس بات کا غمازی کررہاہے کہ شاعری کو حج بیت اللہ اور روضۂ اقدس کو سعادتِ
عظمیٰ حاصل ہوچکی ہے۔ شعر میں جذب و کیف کی حالت کو بڑی خوش اسلوبی سے پیش کیا گیا
ہے۔ سہیل نے اپنی نعتوں میں رسول اکرمﷺ کی بعثت مقصد کو ظاہر کیاہے۔ عشقِ رسول میں
جنون کی کیفیت کے ساتھ مکمل ہوش مندی کا ثبوت بھی دیاہے۔
وہ
با خدا دیوانہ باش بامحمد ہوشیار
کی
کھسوٹی پر کھرے اُترے ہیں
نظر
کے سامنے ہو سیرتِ امی لقب ہر دَم
ترقی
چاہتے ہیں ہم اگر رزق کے خزینے میں
قلم
نے سر جھکاکر یہ دعا  مانگی ہے مولیٰ سے
دیا
جلتا رہے سرکار کی مدحت کا سینے میں
سہیل
اب آپ بھی طاقِ ثنا پر اک دیا رکھ دیں
چمک  جس سے رہے تاعمر دل کے آبگینے میں
سیرتِ
سرکار جن لفظو ں میں ڈھل جائے سہیل
ایسے
لفظوں کی رہے گی زندگی بھر جستجو
سچ
تو یہ ہے کہ سہیل کی بے شمار نعتیں،اسی قسم کے خیال وفکر میں ڈوبتی ہوئی نظر آتی
ہیںتاعمر حضور ﷺ کی مدحت کے چراغ روشن پر ہیں۔ اس کی دعا اُن کے قلم نے سر جھکاکر
اپنے مولیٰ امید ہے دل سے نکلی دعا بے اثر نہیں ہوتی۔ نیز وہ یہ بھی کہہ اُٹھتے
ہیں کہ طاقِ ثنا پر ایک روشن دیارکھ دیں تاکہ تاعمر دل کے آبگینے پر اس کی چمک
باقی رہے۔ مؤخر الذکر شعر کی شعری جمالیات دیکھئے کہ جن لفظوں سے سیرتِ سر کار کی
تقدیم ہوتی ہو ایسے لفظوں کی زندگی بھر جستجو کرنا نہ صرف باعثِ ثواب ہے بلکہ امتِ
مسلمہ کا فرضِ اولین ہے۔
سہیل
غازی پوری کی نعتوں کا اختئیاط یہ اختیاط مجھے بہت پسندآیاوہ ہے کہ ان کی نعتوں
میں آپ ﷺ کے لیے تو، تم، تیرا، تمہارا، تجھے، تمکو، تمہیں وغیرہ کے ضمائر کا
استعمال نہیں ہواہے۔ جب کہ نعت گوئی میں یہ روش عام ہوگئی ہے۔ یہ بات اگرچہ ہم کو
مخاطب کیا جائے تونبیِ کریمﷺ کی آواز سے اپنی آواز کو اونچی مت کرو۔ ایسی صورت
میں مذکورہ بالا ضمائر کا استعمال کسی نعت گو کے اشعار میں مجھے پسند نہیں آتا۔
اس لحاظ سے سہیل غازی پوری خوش نصیب ہیں کہ انہوں نے رسولِ کریم ﷺ کواپنی نعتیہ
شاعری میں تم، تیرا وغیرہ کہہ کر مخاطب نہیں کیا۔ دوسری سب سے اہم بات یہ کہ انہوں
نے نعت کہتے وقت ہمیشہ اللہ اور رسول، توحید اور رسالت، عبد و معبود، خالق و مخلوق
کے فرق و مراتب کا ہمیشہ خیال رکھاہے۔
مذکورہ
بالا تمام خوبیوں کو ذہن میںرکھ کر راقم الحروف نے انہیں ہندوپاک کے، معتبر نعت گو
صدف میں جگہ دی ہے سہیل کے نعت مقطع میں ترمیم و اضافے کے ساتھ اپنی مقالہ کا
اختتام کرتاہوں   ؎
تمہاری
نعت کے دوچار مصرعے ہی نہیںروشن
ہمیں
تو سارے مصرعے آئینہ بردار لگتے ہیں
OOOO