سید وحید القادری عارفؔ راز ؔکی باتیں

سید وحید القادری عارفؔ

راز ؔکی باتیں

میری دانست میں اچھے شعر کی تعریف یہ ہے کہ وہ سامع یا قاری کے ذہن و دل پر نقش بر حجر کی مانند اثر انداز ہوتا ہے اور ناقابل ِفراموش بن جاتا ہے۔ کبھی معروف ترین شعراء کے اشعار بھی بار بار سننے کے باوجود حدودِ سماعت سے آگے درونِ قلب راہ نہیں پاتے اور کبھی کسی نو آموزشاعر کا کوئی شعر پہلی بار سننے پر ہی سیدھے نہاں خانہ ٔ دل میں جاگزیں ہوجاتا ہے ۔حقیقت یہی ہے ہم اکثر و بیشتر دنیائے شعروادب کی کئی نامی گرامی شخصیتوں کے نوادراتِ شعری سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں لیکن اس بحر نا پیدا کنار کی شناوری کرتے کرتے ہمارے سامنے کوئی ایسی تخلیق آجاتی ہے جوہمیں چونکا دیتی ہے اور ہم اس کے اندازِ بیان کی سحر خیزیوں میں کھو سے جاتے ہیں۔ لا محالہ ہم اس شاعر کے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو اس خوبصورت تخلیق کا تخلیق کار ہے اور ہمارے لئے یہ بات اور بھی چونکا نے والی ہوتی ہے جب یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئی کہنہ مشق شخصیت نہیں بلکہ خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ایک ایسا نوجوان شاعر ہے جس کے عرضِ ہنر کے صفحات قاری جس قدر اُلٹتا جایے گا اس کے عروجِ فن کا اتنا ہی قائل ہوتا چلا جایے گا۔پچھلے زمانے میں یہ مطالعہ صرف کتابوں کی ورق گردانی تک ہی محدودہوا کرتا تھا لیکن اِن دنوں سوشیل میڈیا اور خاص طور پر فیس بک نے اردو داں طبقے کے لئے عموماً اور شعراء اور ادیبوں کے لئے خصوصاً ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے جہاں وہ باہم دیگر منسلک ہو گئے ہیں۔شاعر و ادیب اپنی تخلیقات ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں تو شائقین ِ ادب ان تخلیقات سے محظوظ ہوتے ہیں اور انہیں سراہتے ہیں۔ یہاں قلمی شہہ پارے بھی ہوتے ہیں اور رطب و یابس کی کثرت بھی ہوتی ہے۔مجھے بھی روزانہ متعدد شعرا کی غزلیات میں ٹیگ کیا جاتا ہے جن میں بعض بہت عمدہ ہوتی ہیں جو دل کوچھو لیتی ہیں‘ بعض اچھی ہوتی ہیں جن کو پڑھ کر مسرت ہوتی ہے اور بعض ایسی ہوتی ہیں جو قابل اعتناء بھی نہیں ہوتیں۔بلال راز ؔ صاحب سے میرا تعارف بھی فیس بک پر اس وقت ہوا جب انہوں نے پہلی باراپنے اشعار میں مجھے ٹیگ کیا۔ پھر میں نے انہیں فیس بک پر ہی وقتاً فوقتاً منعقد ہونے والے مشاعروں میں اپنا کلام پیش کرتے پایا۔اب جب انہوں نے مجھ سے اپنے کلام پر اظہارِ خیال کرنے کی خواہش کی تو میں نے ان
کے کلام کو باضابطہ پڑھنا شروع کیا اور پھر پڑھتا ہی چلا گیا۔ شعر کے بعد شعر،غزل کے بعد غزل ۔بہر حال دلچسپی ہے کہ کم نہیں ہوتی اور مجھے اس بات کا پوری طرح اندازہ ہو گیا کہ بلال رازؔ کا کلام بلا مبالغہ قاری کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ان کے اشعار بتاتے ہیں کہ ان میں سخن فہمی کی خصوصیت بھی موجود ہے اور شعر گوئی کی صلاحیت بھی بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے ۔بریلی کی زرخیز سرزمین سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے کم عمری میں ہی ایسے بلند پایہ اشعار کہہ ڈالے ہیں جن پر بسا اوقات شبہہ ہوتا ہے کہ ان کا خالق کبرِ سنی کے ساتھ ساتھ ارتقائے فکر وفن کے مراحل طے کرچکا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ بلال رازؔ کا کلام دیکھ کر مجھے نہ صرف دلی مسرت ہوئی بلکہ مزید توقعات بھی قائم ہو گئیں کہ وہ مستقل میں بلندیٔ فکر و نظر کے مراتب پر فائز ہوں گے۔کم عمری میں خیالات کی یہ پختگی صاف بتاتی ہے کہ بلال رازؔ اپنے بزرگوں کی روایات سے مضبوطی سے جُڑے ہوئے ہیں :
میری آنکھوں میں تجھے دیکھ لیا ہے سب نے
اک قیامت ہے میرے راز کا وا ہو جانا
ان کی شاعری گل و بلبل کی شاعری نہیں۔وہ جب شعر کہتے ہیں تو ان میںادراک و معرفت کا اظہار ہوتا ہے:
کیا عجب بات ہے پوشیدہ جہاں سے رہنا
پھر ہر اک شے میں ہی خود جلوہ نما ہو جا نا
سونا سونا یہ ہمارا دل نہیں۔اس مکاں میں اب رہا کرتے ہو تم
پہلے خود ہی درد دیتے ہو ہمیں۔خود ہی پھر اس کی دوا کرتے ہو تم
تو کبھی وہ اپنی کامیابیوں کا سبب یوں بتا تے ہیں:
جو تجھ سے منسلک ہوا عزت اُسی کی ہے
تو جس پہ مہربان ہے قسمت اُسی کی ہے
ہے زندگی اُسی کی جو نزدیک ہے ترے
جو تجھ کو دیکھتا ہے بصارت اُسی کی ہے
وہ جب نعت کہتے ہیں تو دامانِ سرورِ کائنات علیہ افضل التسلیمات سے ان کی والہانہ وابستگی کا اظہار یوں ہوتا ہے:
ملک جس کے تلوؤں کے لیتے ہے بوسہ۔ہمارا نبی وہ ہمارا نبی ہے
ترے نام کردیا یہ جہاں خدا نے سرور۔وہ فلک ترا فلک ہے یہ زمیں تری زمیں ہے
مجھے خوف ہی نہیں ہے غمِ زندگی کا کوئی
مرا غم گسار آقا مری جاں سے قریں ہے
وہ اکثر اپنے اشعار کے ذریعہ نہایت سادگی سے اپنے اطراف موجود ماحول کی آلودگی پر حیرانی جتاتے ملتے ہیں اور اس زبوں حالی سے افرادِ ملت کی بے حسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں:
ہوس میںزر کی مجھے قتل کردیا لیکن۔بتا لہو کے علاوہ بدن سے کیا نکلا
بچھائے نفرتوں کے خار ہیں اہلِ سیاست نے
یہاں پر پیار کے بوٹے کھلانے کون آئے گا
بچا کر اپنے دامن کو گزر جائیں اگر سب ہی
تو دنیا سے برائی کو مٹانے کون آئے گا
بلال رشتوں کے درد کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں:
حقیقت تم کو کیا معلوم اس دردِ محبت کی
سمجھتے ہیں وہی اس درد کو جو درد والے ہیں
کبھی اس حقیقت کا اظہار کرتے ہے:
زمانے میں کوئی رشتہ ہو اس کو
بڑا مشکل نبھانا ہو گیا ہے
تو کبھی تعلقات کی گہرائی کو جانچنے کا ٓزمودہ نسخہ یوں بتا تے ہیں:
فقط اتنا سبب ہے یہ مرے بیمار ہونے کا
کہ میں دیکھوں عیادت کے بہانے کون آئے گا
عجز و انکساری ان کا طرۂ امتیاز ہے کیونکہ وہ جانتے ہیںکہ:
لے کے جائے جو حق تعالیٰ تک۔راستہ بس وہ انکساری ہے
یہ تاج و تخت کبھی بھی نہ راس آئے مجھے
مقام اونچے فقیری نے ہی دلائے مجھے
ان کا پیغام محبت کے سوا کچھ اور نہیں:
مری سرشت محبت مرا پیام وفا۔زمانہ کچھ بھی کہے مجھ کو پیار کرنا ہے
میں نے ان کے بعض اشعار بطور نمونہ پیش کیے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ قاری میری رائے سے ضرور متفق ہوں گے اور بلال رازؔ کے’’احساس کی خوشبو‘‘ کو از ابتدا تا انتہا محسوس کرتے ہوئے ان راز کی باتوں کے ہمراز ہو جائیں گے:
رازؔ کا راز بس وہی جانے
رازؔ کی جس سے رازداری ہے
٭٭٭