سید وحید القادری عارفؔ سے ایک مکالمہ

 سید وحید القادری عارفؔ سے ایک مکالمہ

مصاحبہ گو: غلام ربانی فداؔ

سوال:آپ کاسوانحی وادبی،خاندانی پس منظربیان کیجئے
جواب : میرا تعلق حیدرآباد دکن کے ایک مشہور و معروف علمی و ادبی خاندان سے ہے۔ میرے جدِّ اعلیٰ حضرت مفتی ابو الفضل سید محمود قادری نقشبندیؒ آصف جاہِ خامس کے دورِ سلطنت میں ناظمِ نظمِ جمعیت‘ ناظم قضایائے عروب‘ رکن عدالت العالیہ اور مفتی وضعِ قوانین کے جلیل القدرعہدوں پر فائز رہے۔ آپ اپنی سرکاری مصروفیات کے باوجود درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھتے اور آپ کے حلقہء درس میں عمائدینِ شہر‘ علما و فضلا کی ایک کثیر تعداد شریک ہوتی اور آپ کے تبحرِ علمی سے مستفید ہوتی۔عمدۃ العلماء مفتی میر مسیح الدین علی خان محبوب نواز الدّولہ ؒ آپ کے خسر تھے جو دار القضاء میں مفتیء اوّل کی خدمت پر فائز تھے۔آپ کی تصنیف ’’مسیح الاسقام‘‘ معروف ہے۔ میرے جدِّ امجد حضرت مفتی ابو السعد سید عبد الرشید قادری ؒنے مفتیء بلدہ اور قاضی القضاۃ کی خدمات انجام دیں۔ جید شاعرتھے ۔ا خترؔ تخلص تھا ۔ عربی اردو اور فارسی میں شعر کہتے تھے۔ وحید العصر حضرت سید وحید القادری الموسوی عارفؔ ؒ میرے نانا تھے جو قطب الاقطاب حضرت سید موسیٰ قادری علیہ الرحمہ کی اولادِ امجاد سے تھے۔ علماء اور مشائخینِ وقت میں ممتاز تھے۔ شعر یہ بھی کہتے تھے۔ عربی‘ اردو اور فارسی کلام کا مجموعہ’’کلامِ عارف‘‘ کے نام سے طبع شدہ ہے۔ آپ کی تصنیف ’’سماع‘‘ اپنے موضوع پر مختصر لیکن جامع سمجھی جاتی ہے۔یہ تمام حضرات اصحابِ رشد و ہدایت تھے اور سلسلہء نقشبندیہ و قادریہ میںارادتمندوں کی ایک کثیر تعداد ان کے دست حق پرست پر بیعت سے مستفید تھی۔ میرے والدِ گرامی حضرت علامہ ابو الفضل سید محمود قادریؒ شعبہء قانون سے وابستہ تھے۔ بحیثیت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خدمات انجام دیں۔ شہرِ حیدرآباد کے علماء و مشائخین میں اپنے علم کے باعث ممتاز حیثیت کے حامل تھے۔ کئی مذہبی‘ علمی‘ سماجی انجمنوں کے بانی‘ صدر ‘ معتمد یا سرگرم کارکن تھے جن میں انجمنِ معین الملت (بانی و صدر)‘ معارفِ اسلامیہ ٹرسٹ(بانی و صدر)‘ طور بیت المال (نائب صدر)‘جامعہ نظامیہ (معتمد مجلسِ انتظامی)‘  مسلم ویلفیر آرگنائزئشن (بانی و نائب صدر)‘ انجمن تحفظِ اوقاف ‘ صدر مجلسِ علمائے دکن وغیرھم شامل ہیں۔ آپ سلسلہء قادریہ میں نقیب الاشراف بغدادِ شریف حضرت پیر سید ابراہیم سیف الدین قادری الکیلانیؒ کے خلیفہ تھے۔ شاعر تھے۔ محمودؔ تخلص فرماتے تھے۔ عربی‘ اردو اور فارسی میں شعر کہتے تھے۔ امام الکلام پہلوانِ سخن نجم الدین صاحب ثاقبؔ بدایونی ؒ سے شرفِ تلمّذ حاصل تھا۔ تین مجموعے’’ فردوس‘‘ (نعتیہ کلام)’’ بہارِ منقبت‘‘ اور’’ کیف و سرور ‘‘(غزلیات) شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ عقائد اہلِ سنت میں متعدد کتابوںکے مصنف ہیں۔ ادب میں ’’محاسنِ تاریخ گوئی‘‘ فنِ تاریخ گوئی پر آپ کی منفرد تصنیف ہے۔ بعض نایاب قلمی کتب کا آپ نے فارسی سے اردو میں ترجمہ فرمایا جن میں حضرت سید شاہ غلام علی قادری الموسویؒ کی تصنیف ’’مشکوٰۃ النبوۃ‘‘ کی پانچ جلدیں شامل ہیں۔ابو الکلام آزاد ریسرچ انسٹٹیوٹ کے زیر اہتمام مرتبہ اردو انسائکلوپیڈیا میں حصہء قانون آپ نے ہی تحریر فرمایا تھا۔
سوال؛ آپ کی پہلی نعت وغزل کامطلع ومقطع کیاتھا۔آپ نے کب کہی؟
جواب: پہلی نعت میں نے ۱۹۷۱ میں کہی تھی۔ مطلع و مقطع پیش ہیں:
نبی کا جو محفل میں نام آگیا ہے
ہر اِک کی زباں پر سلام آگیا ہے
پنہچ کر مدینے میں عارفؔ کہوں گا
کہ سرکار اب یہ غلام آگیا ہے
جبکہ پہلی غزل میں نے ۱۹۷۱ ہی کے ایک طرحی مشاعرہ میں پیش کی تھی۔ مطلع و مقطع یوں ہیں:
نفس نفس میں مرے یوں سمائے جاتے ہیں
تمام روح وجسد پر وہ چھائے جاتے ہیں
حریمِ یار اک ایسا مقام ہے عارفؔ
’’جہاں پہ پھول نہیں دل بچھائے جاتے ہیں‘‘
سوال:عشق کی حیثیت آپ کی نظرمیں؟
جواب:میں سمجھتا ہوںمحبت ایک فطری عمل ہے اور عشق اس کی معراج ہے۔عشق کا دعویٰ کرنے والے تو بہت ہیں لیکن یہ وہ مقام ہے جو بآسانی ہر کس و ناکس کو نصیب نہیں ہوتا۔ پھر عشقِ مجازی کی پر فریب راہیں بھی ہیں جن میں اکثر لوگ الجھ کر رہ جاتے ہیں۔مومن کا مقصد عشقِ حقیقی کا حصول ہوتا ہے جس کے لئے اسے کئی مشکل مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔ اس کی ابتدا خود اپنی حقیقت کے ادراک سے ہوتی ہے اور انتہا اپنے خالق کی پہچان پر ہوتی ہے۔ جب بندہ اپنے خالق کی معرفت کی خواہش رکھتا ہے تو پھر اس کی جانب دیوانہ وار بڑھتا ہے اور خود خالق اس کی راہوں کو آسان کرتا جاتاہے کہ
 ارشادِ ربّانی ہے  وَالَّذینَ جَاھدُوا فینا لَنَھدِیَنَّھم سُبُلنا ۔
 اور اس منزل کے حصول کے لئے دامنِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وابستگی اور آپ کے اسوہء حسنہ کی تقلید سے بہتر کوئی راستہ نہیں۔علامہ اقبالؔ نے خوب کہاہے:
ہر کہ آں عشقِ نبی سامانِ اوست
بحر و بر در گوشہء دامانِ اوست
کہ عشقِ نبی کی حلاوت جسے نصیب ہوگئی تو گویا بحر و بر کی تمام وسعتیں اس کے گوشہء دامن میں سماگئیںاور یہی تو دونوں جہان میں کامیابی و کامرانی کی دلیل ہے   ؎
دولتِ عشقِ نبی دل میں لئے آتا ہے
پئے بخشش یہی سرمایہ ہے نادار کے پاس
    (عارفؔ)
سوال:سعودی عرب میں اردو کی موجودہ صورت حال کیاہے؟
جواب: سعودی عرب میں اردو کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں۔ یہاں عربی کے بعد جو زبان عام ہے وہ انگریزی ہے۔ تاہم یہاں ایک روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ شائع ہوتا ہے  جس میں ابتداءَ طرحی مشاعرے بڑی کامیابی سے ہوتے تھے
مشاعرے بڑی کامیابی سے ہوتے تھے۔ اس میں یہاں مقیم کئی اردو شاعر حصہ لیتے تھے۔میری غزلیات بھی اس   اخبار میں طبع ہوتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی اور پاکستانی کمیونٹی انفرادی طور پر اردو کی خدمت کر رہی ہے۔ مختلف مذہبی‘ شعری اور ثقافتی محفلیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ ہندوستانی سفارت خانہ کے زیرِ اہتمام بھی ایسی محفلوں کا انعقاد عمل میں آتا ہے۔
سوال:نعت نگاری کے نئے موضوعات واسلوب کیاہوسکتے ہیں؟
جواب: نعت گوئی نہایت ادب و احترام کی متقاضی ہوتی ہے۔ یہ اس ممدوح علیہ الصلوٰۃ و السلام کی مدحت ہے جس کی بارگاہِ بیکس پناہ میں آواز کی بلندی بھی اعمال کے حبط ہونے کا باعث ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس فن میں نئے موضوعات و اسلوب پر تجربہ کرنے کی جسارت کی بجائے اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم و رضوان اللہ علیھم اور اولیائے کاملین و متقدمین رحمھم اللہ کی تقلید میں عافیت ہے۔ ہاںانداز بیان میں جدّت ممکن ہے لیکن اس میں بھی از حد احتیاط ضروری ہے۔
سوال: آپ کے بزرگوں کے پسندیدہ نعتیہ اشعار سنایئے؟
جواب:  میرے جدِّ امجد حضرت مفتی سید عبد الرشید قادری اخترؔ علیہ الرحمہ کے یہ اشعار مجھے بے حد پسند ہیں:
گنہہ ایسے دھلیں کافور سب کا ہوش ہوجاتا
تری دریائے رحمت کو ذرا سا جوش ہوجاتا
شفیع المذنبیں حق نے کیا ائے رحمتِ عالم
قبائے مغفرت میرے لئے سرپوش ہوجاتا
تری زلفِ رسا بڑھ کر قریبِ دوش ہوجاتی
مرا سر جھکتے جھکتے بوسہء پاپوش ہوجاتا
میرے نانا حضرت سید وحید القادری عارفؔ علیہ الرحمہ کے چند اشعار پیش ہیں:
مدّت سے ہے دل میں مرے ارمانِ مدینہ
دکھلادے خدا جلد گُلستانِ مدینہ
موقوف ہے توقیرِ مکاں ذاتِ مکیں پر
سلطانِ مدینہ سے بڑھی شانِ مدینہ
محبوب کی محبوب ہوا کرتی ہے ہر شئی
کیوں کر نہ دل و جان ہوں قربانِ مدینہ
عارفؔ یہ سمائی ہے سرِ سودازدہ میں
ہوں میرے قدم اور بیابانِ مدینہ
میرے والد حضرت ابو الفضل سید محمود قادری علیہ الرحمہ کی یہ مشہور و معروف  نعتِ شریف مجھے بے حد پسند ہے:
کعبہء دل تمہیں تو ہو قبلہء جاں تمہیں تو ہو
تم پہ نثار جان ودل جانِ جہاں تمہیں تو ہو
تم سے ہے میری زندگی تم سے ہے میری بندگی
مجھکو جہاں سے کیا غرض میرا جہاں تمہیں تو ہو
میرا نمود تم سے ہے میرا وجود تم سے ہے
غیب و شہود تم سے ہے میں ہوں کہاں تمہیں تو ہو
نالہء دل گداز میں‘ پردہء سوز و ساز میں
شوق کے ترجماں تمہیں دل کی زباں تمہیں تو ہو
سب کو تمہاری آرزو سب کو تمہاری جستجو
سب جسے ڈھونڈتے ہیں وہ جنسِ گراں تمہیں تو ہو
محفل کائنات میں میکدہء حیات میں
تشنہ دہاں ہمیں تو ہیں پیرِ مغاں تمہیں تو ہو
محمودِؔ خستہ حال کو نام و نشاں سے کیا غرض
ہے یہ وہی تو بے نشاں جس کا نشاں تمہیں تو ہو
سوال:انٹرنیٹ پراردوونعتیہ ادب کی صورتحال ؟
جواب: انٹرنیٹ پر اردو نعتیہ نثر و نظم کافی مقدار میں دستیاب ہے ۔ یہ اسکرپٹ کی صورت میں بھی ہے اور آڈیو اور ویڈیو فارمیٹ میں نعت خوانی اور قوالیوں کی شکل میں بھی۔تاہم ان میں معیاری کلام اگر مفقود نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔
سوال: کیابات ہے کہ آپ اخبارات ورسائل میں بہت کم شائع ہوتے ہیں؟
جواب: اسیّ کی دہائی تک میرے مضامین اور اشعار مختلف اردو اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے تھے۔ اس کے بعد کبھی کبھار جدہ سے شائع ہونے والے اخبار ’’اردو نیوز‘‘ اور پاکستان کے رسالوں ’’رابطہ‘‘ اور مجلّہء عثمانیہ‘‘ وغیرھما میں کلام شائع ہوا پھر رفتہ رفتہ نام و نمود سے کنارہ کشی نے طبیعت پر غلبہ پالیا اور اب یہ حال ہے کہ  ؎  منم و کُنجِ خموشی و کتبھای چند  پر عمل پیرا ہوں۔ہاں آجکل فیس بک رابطہ کا ایک اچھا ذریعہ بن چکا ہے جس سے شعراء کی عالمی برادری با ہم دیگر منسلک ہے۔ ایک دوسرے کی شاعری سے لطف اندوز ہونے کا یہ سلسلہ چل پڑا ہے جس میں میں بھی جُڑا ہوا ہوں۔ آن لائن مشاعرے بھی خوب ہورہے ہیں ان میں بھی شرکت ہوجاتی ہے۔
سوال: تنقیدنعت کی کتنی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟
جواب: میں پھر کہوں گا کہ یہ مقام نہایت ادب و احترام کا متقاضی ہے۔ یہ بات جہاں نعت گوئی پر منطبق ہوتی ہے وہیں نعتیہ کلام پر تنقید نگاری کے لئے بھی شرطِ اولّین کی حیثیت رکھتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تنقید نگار محتاط رویّہ کے عادی نہیں ہوتے اور یہ عادت نعتیہ کلام پر تنقید کے ضمن میں ضیاعِ ایمان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
سوال:عالمی اردو بستیوں میں اردو کی منظرنامہ کیاہے؟
جواب:  جہاں تک میں جانتا ہوں اردو برادری میں بلا لحاظ ِ قومیت و جغرافیائی حدود ادبی بیداری نمایاں ہے۔ ہندوستان‘ پاکستان کے علاوہ امریکہ‘ کینیڈا‘ انگلینڈ اور دیگر یوروپی ممالک میں بھی اردو اداروں کی خاصی تعداد موجود ہے بلکہ دن بدن نئے ادارے بھی وجود میں آرہے ہیں جہاں نشر و اشاعت کا کام بڑے زور و شور سے جاری ہے۔
سوال: کیا آپ نثربھی لکھتے ہیں؟ کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں؟
جواب: جیسے میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے میرے نثری مضامین اردو جرائد میں طبع ہوتے رہے ہیں لیکن آجکل منظومات کی جانب زیادہ میلان ہے۔ میں نے حضرت والدم علیہ الرحمہ کے حسب الحکم حضرت سید شاہ غلام علی قادری الموسویؒ کی تصنیف ’’مشکوٰۃ النبوۃ‘‘ کی تین جلدوں (جلد ۶ ‘ ۷ اور ۸) کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا تھا جو ۱۹۸۴ ؁ ء میں طبع ہوئیں۔حضرت سید شاہ غلام علی قادری الموسویؒ کی حیاتِ با برکات پر ایک کتاب’’علی الولی‘‘ تحریر کی جس کا بیشتر حصہ مشکوٰۃ النبوۃ کی آٹھویں جلد میں بطورِ ضمیمہ طبع ہوا۔ اس کے علاوہ ایک کتاب ’’ذکرِ محمود‘‘ میرے جدِ اعلیٰ حضرت ابو الفضل سید محمود ؒ کی شخصیت اور خاندانی حالات پر منظرِ عام پر آچکی ہے۔ حضرت والدم علیہ الرحمہ کے مضامین کا مجموعہ ’’افکارِ محمود‘‘ بھی میں نے مرتب کیا تھا جو ۲۰۰۱  ؁ء میں طبع ہوا۔
سوال:آپ اداس ہوتے ہیں توکیاکرتے ہیں؟
جواب: جب ایک شاعر اداس ہوتا ہے تو یقیناَ شعر کہتا ہے اور میں بھی یہی کرتا ہوں
سوال: آپ کے پسندیدہ شعراکے کچھ اشعارسنائے
جواب: میرے والد کہا کرتے تھے کہ بہترین شعر وہ ہوتا ہے جو ایک دفعہ سن لیں تو یاد ہوجاتا ہے۔ کچھ پسندیدہ شعر پیش ہیں جو اسی زمرہ میں آتے ہیں:
وَ اَحسَنُ مِنکَ لَم تَرَ قَطُّ عَینی
وَ اَجمَلُ مِنکَ لَن تَلِدِ النِّساء
 خُلَقتَ مُبرّاء مِن کُلِّ عیبِ
کَاَنَّکَ قَد خُلِقتَ کَمَا تَشَاء
                         (حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ)
یَا صَاحِبَ الجَمَال وَ یَا سَیِّدَ البَشَر
مِن وَجھِکَ المُنِیر لَقَد نَوَّرَ القَمَر
لا یُمکِنُ الثَّناءُ کَما کَانَ حَقَّه
بعد از خدا بزرگ توئی قصّہ مختصر
                      (حضرتِ جامیؒؔ)
غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است
                        (غالبؔ دہلوی)
نہیں ہے دوسرا کوئی ہمارا یا رسول اللہ
تمہارے ہیں تمہارا ہے سہارا یا رسول اللہ
مدد کا وقت ہے اب تابِ گویائی نہیں باقی
چلی جب تک زباں میں نے پکارا یا رسول اللہ
امیرؔ بے نوا محشر میں کس کا آسرا ڈھونڈھے
رہا مدّاح دنیا میں تمہارا یا رسول اللہ
                                   (امیر ؔمینائی)
سوال:جہان نعت کے حوالے سے آپ کے تاثرات کیاہیں؟
جواب:سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کا بنظرِ غائر مطالعہ دامنِ مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم سے والہانہ وابستگی بخشتا ہے اور اس والہانہ وابستگی سے نسبتِ غلامی کا احساس غالب آتا ہے اور غلام اپنے آقا کی مدح و ثنا میں مشغول ہوجاتا ہے۔ قلم اُٹھتا ہے تو اُنہیں کی نعت رقم ہوتی ہے۔ زبان کھلتی ہے تو اُنہیں کی نعت بیان ہوتی ہے۔ آج کے اس پُر فتن دور میں جہاں انٹرنیٹ پر ہر قسم کی رطب و یابس کے ذریعہ نسلِ نو کی تباہی کے تمام اسباب بآسانی موجود ہیں‘ جہانِ نعت کی اشاعت ایک مثبت اقدام ہے جس سے وابستگانِ دامنِ محمدی کو اُن کی اصل کی جانب لوٹنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ ناظرین تک پنہچانے کی سعی کی جائے تا کہ ہر اس صاحبِ ایمان کے دل میں الُفتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے چشمے بہہ نکلیں جو ایک بار جہانِ نعت یا اس جیسی دوسری ویب سائٹس کی زیارت کرلے۔
سوال:قارئین جہان نعت کے لئے کوئی پیغام؟
جواب: میں جہانِ نعت کے قارئین سے یہی کہوں گا کہ اُنہیں اپنی نسبت کو مستحکم کرنے کا جو موقع جہانِ نعت کی صورت میں ملا ہے اس سے مکمل استفادہ کریں کہ یہاں  ان کے رنج و غم کا علاج بھی ہے‘ سکون و اطمینان کا سامان بھی ہے اور دارین کی کامیابی کی جانب راہنمائی بھی میسر ہے  ؎
علاجِ اضطرابِ آدمیّت ان کے در پر ہے
غرض کچھ چارہ گر سے ہے نہ حاجت کوئی درماں کی