شاعرِ حمدونعت طاہرؔ سُلطانی کی حمدیہ و نعتیہ شاعری پر اہل علم و قلم کی آراء

شاعرِ حمدونعت طاہرؔ سُلطانی کی حمدیہ و نعتیہ شاعری پر  اہل علم و قلم کی آراء

محترم طاہرؔسُلطانی صاحب ایک اچھے نعت خواں ہی نہیں بلکہ سُلجھے ہو ئے نعت گو شا عر بھی ہیں۔ سُلطانی صاحب کی نعتیں سننے کا اتفاق کئی مرتبہ ہوا ہے ۔ ماشا ء اللہ خوب پڑھتے ہیں اور خو ب کہتے ہیں۔محترم طاہر صاحب ایک درویش صفت مسکین طبع نوجوان ہیں جن کا باطِن ان کے ظاہر کی طرح صاف معلوم ہو تا ہے کہ ان کی لکھی ہوئی نعتیں سُن کر اور پڑھ کر معلوم ہو تا ہے کہ حضور اکرمﷺ کی تعظیم و تکریم اور حضورﷺ کے عشق و محبت کی شمع ان کے دل میں درخشاں اور تاباں ہے یقین ہے کہ حضور کی تعظیم و تکریم اور حضور کے عشق و محبت کا جذبہ طاہر ؔ صاحب کو قربِ خدا اور رضائے مصطفی ﷺ کی منزل تک پہنچانے میں انشاء اللہ الرحمن ممدو معاون ثابت ہو گا ۔اللہ تعالیٰ اپنے محبوب مکرمﷺ کے طفیل جناب طاہرؔسُلطانی صاحب کی نعتوں کو مقبولیت عطا فرمائے اور اسے ان کے لئے تو شئہِ آ خرت بنائے۔آمین …{علامہ سیّد ریاض الدین سہروردی}
ژژژژژ
ان کی نعتوں کی زبان نہایت سادہ، بیاں دلکش اور محبت رسولﷺ سے سرشار ہے۔ انہوں نے اپنی نعتوں میں شمائل رسول، اسوۂ رسول، مدینہ کے دلکش مناظرکا اظہار بڑے خلوص سے کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی نعتیں تاثیر سے لبریز ہیں اور دل و روح کی بالیدگی کا سبب ہیں…{تابش دہلوی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی نے نعتوں میں مکمل احتیاط سے کام لیا ہے۔ جناب طاہر نے مبالغے اور غلو سے دامن بچایا ہے اور خدا اور رسولﷺ کے فرق و امتیاز کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے نہایت سلیقے سے نعتیہ اشعار کہے ہیں۔ ان کی نعتوں کا مطالعہ کیا۔مجھے اطمینانِ قلب اور روحانی مسرت حاصل ہوئی…{راغب مراد آبادی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی صاحب کے یہاں حضور اکرمﷺ سے والہانہ اظہار بھی ہے اور اظہار میں وجدانی کیفیت کی سرشاری بھی چنانچہ ان کی نعت سُن کر اور پڑھ کر ان کے قاری کا وجدان بھی جھوم جھوم اٹھتا ہے۔ بلاشبہ ان کی نعتیں اُردو کی نعتیہ شاعری میں ایک نمایاں اور لائق تحسین اضافہ ہیں اور حقیقت میں یہی نعتیہ شاعری ان کی شہرت و عظمت کا بلکہ ہر نعت گو کی شہرت کا سبب ہے…{ڈاکٹر فرمان فتح پوری}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی کے مجموعے میں جابجا ایسے اشعار ملیں گے جو رسالت پر ان کے ایمان اور رسول اکرمﷺ سے ان کی والہانہ مودت و ارادت اور ان کی عقیدت کی بین دلیل ہیں۔ بہرحال یہ بات باعثِ تشکر و امتنان ہے کہ طاہرؔسُلطانی کی نعتیہ شاعری میں عقیدت آفریں جذبات کی فراوانی اور خیالات کی روانی کے ساتھ ساتھ مضامین کا تنوع پایا جاتا ہے جو بلاشبہ ان کی نعت گوئی کی قدرت پر دلالت کرتا ہے…{محسن بھوپالی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی بھی ایک نعت گو ہیں، وہ حضور کا سراپا ہی بیان نہیں کرتے بلکہ وہ اس بات کا بھی برملا اظہار کرتے ہیں کہ حضور کی سیرت کی تعلیم ہمارا اوّلین فریضہ ہے۔ ہماری نجات اس میں ہے۔ اس بات کے لیے وہ مختلف پیرائے اختیار کرتے ہیں۔ عقیدت کے جذبے میں ڈوب ڈوب جاتے ہیں اور گوہر مراد پاتے ہیں۔ حضورﷺ سے ان کی والہانہ محبت صرف شاعرانہ احساسات تک نہیں، وہ اپنی عملی زندگی میں بھی ایک سچے عاشقِ رسولﷺنظر آتے ہیں…{ڈاکٹر حسرت کاسگنجوی}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی اپنے پاکیزہ جذبوں سے ہی دل موہ نہیں لیتے بلکہ ان کی شاعرانہ استعداد بھی چونکا دینے والی ہے کیونکہ انہوں نے اظہار کے لیے مشکل پسندی کا ثبوت دیا ہے اور زبان و ہیئت کے تجربوں سے بھی گزرے ہیں۔ ان کی مشکل پسندی قاری کو گراں نہیں گزرتی۔ وہ طویل ردیف اور تکرار لفظی سے تنوع اور دلچسپی پیدا کردیتے ہیں ۔ اس کے کئی نمونے ان کے مجموعہ میں موجود ہیں…{پروفیسر شفقت رضوی }
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی کی حمدیہ کتاب ’’حمد میری بندگی‘‘ اس وقت میرے پیش نظر ہے جو مکمل طور پر حمد اور مناجات کے موضوع پر مبنی ہے۔ نئی نسل کے شاعروں کی مانند طاہرؔ سُلطانی نے بھی کہیں پابند ، کہیں آزاد نظم کا پیرایۂ اظہار اور ہیئت استعمال کی ہے تو کہیں غزل کی مروّجہ خارجی شکل! علاوہ ازیں کچھ ’’ہائیکو‘‘ اور چند ’’حمدیہ ماہیے‘‘ بھی اس مجموعہ میں شامل ہیں۔ جہاں تک خالقِ کائنات کی توصیف و ثنا کا تعلق ہے اس باب خاص میں طاہرؔ سُلطانی کا تخلیقی روّیہ نہایت محتاط اور متوازن ہے۔ موضوع جن نزاکتوں اور احتیاطوں کا متقاضی ہے طاہرؔ سُلطانی کی بیشتر حمدیہ کلام ان کی آئنہ دار ہیں…{پروفیسر منظر ایّوبی}
ژژژژژ
کلام میں کہیں کہیں جدّت بھی ہے، حسن معنی بھی ہیں۔ لیکن سادگی ان کے مزاج کی، ان کی شاعری پر بھی سایہ فگن ہے اس لئے دور از کار خیالات سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔قدرت کو طاہرؔسُلطانی سے شاید ابھی بہت کام لینا ہے وہ اپنی دھن کے پکے، خوشامد اور چاپلوسی سے دور (اللہ انہیںمستقبل میں بھی دور ہی رکھے۔آمین) اور اس پُر آشوب دور میں ان کے شب و روز وقف ذکر حمدونعت ہیں۔ سب سے بڑا وصف ان کا یہ ہے کہ وہ گروہی تعصبات سے بالکل بے نیاز ہیں۔ خداوند کریم ان کے ارادوں میں کامیابی اور ان کی محبت کو قبول فرمائے۔آمین…{ادیب رائے پوری}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی مزاج کے سادہ اور اخلاق و کردار میں خوشگوار استقامت رکھنے والے ایک بلند ہمت اور صالح جوان ہیں جنہوں نے اپنی علم دوستی اور ادبی دلچسپی ، صحافت ، طباعت و اشاعت کے امور میں معنی آفریں پیش رفت کے باعث اپنا ایک مقام اور مرتبہ منوالیا ہے۔ وہ ہر دلعزیز کے منصب پر پہنچے ہیں اور آج ایک دنیا ان کی معترف ہے۔ ان کی ایک درجن سے زیادہ تصانیف و تالیفات منظر عام پر آچکی ہیں۔ مگر جس بات نے انہیں اتنا اہم اور معتبر بنادیا ہے وہ حمد و نعت سے ان کا گہرا شغف اور بے مثال عملی تگ و  دو ہے۔ ان کی زندگی کا یہی پہلو ان کی ساری شخصیت اور فن کو روشن اور تابناک بنائے ہوئے ہے۔ موضوعات کے حوالے سے بھی اور تربیتِ ذات کے حوالے سے بھی…{پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم}
جناب طاہرؔسُلطانی کو میں ایک خوش فکر نعت گو اور خوش الحان نعت خواں کی حیثیت سے عرصۂ دراز سے جانتا ہوں۔ محافل نعت کی میزبانی بھی ان کا ایک طرۂ امتیاز ہے۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر مجھے ان کے اس جذبے نے متاثر کیا ہے وہ حمد باری تعالیٰ کی جانب ان کی مسلسل توجہ اور اس کی ترویج کے لیے ان کی سعیٔ پیہم ہے۔ مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے انہیں بہت سی مخالفتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا یہاں تک کہ کچھ اپنے، پرائے ہوگئے لیکن ان کے پاس استقلال میں لغزش نہیں آئی بلکہ وہ اور ’’تیزگام‘‘ ہوگئے۔فروغِ حمد کے ضمن میں طاہرؔسُلطانی صاحب کا ادارہ ’’جہانِ حمد پبلی کیشنز‘‘ گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہ سعادت بھی اُن ہی کے حصے میں آئی کہ وہ ہر انگریزی مہینے کے پہلے اتوار کو طرحی حمدیہ مشاعرہ منعقد کرتے ہیں۔ ان کی زیر ادارت شائع ہونے والا ماہنامہ ’’ارمغانِ حمد‘‘ ملک بھر میں اپنی نوعیت کا واحد جریدہ ہے جو حمدیہ شاعری کے لیے وقف ہے۔ اس مناسبت سے طاہرؔسُلطانی کہتے ہیں    ؎
سامنے نظروں کے تھی رنگیں جریدوں کی بہار   ہم نے حمدِ پاک کے طاہرؔ شمارے ہی چُنے
{ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی دینی پس منظر کے نوجوان شاعر ہیں۔ طاہرؔسُلطانی نے نعت گوئی کے تازہ پیرایوں پر خصوصی توجہ دی ہے، ان کے کلام میں قلبی کیفیات اور عقیدت کا والہانہ اظہار ملتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ نوجوان نعت گو شعراء کے مجموعوں میں طاہرؔسُلطانی کا نعتیہ کلام خوشگوار اضافہ ہوگا…{پروفیسر سحر انصاری}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی، صحافی بھی ہیں اور تحقیق نگار بھی اور ایک دلنواز شخصیت کا پرتو بھی۔ بالآخر میں یہ کہوں گا کہ یہ سب خدا کی دین ہے کہ وہ طاہر ہیں اور وہ بھی سُلطانی۔ طاہرؔسُلطانی جہاں اپنی عقیدت مندی کو اپنی نعت کی بنیاد بناتے ہیں، ہاں دوسری طرف اسلام کے پیغام اور اس کی افادیت کو بھی بڑی تاثیر سلاست روی اور خیال آفرینی کے ساتھ بیان کرتے ہیں…{ڈاکٹر نظر کامرانی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی نے شاعرانہ نزاکتوں اور لفظی و معنوی صنفوں سے بڑا کام لیا ہے اور اس معاملے میں تکلفات سے کام نہیں لیتے بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے محسوسات کو لفظ و بیاں کے پیکر میں ڈھال دیتے ہیں۔طاہرؔسُلطانی سادگی اور بے ساختگی کا جوہر رکھتے ہیں…{پروفیسر آفاق صدیقی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی بہت اچھے نعت خواں اور جانے پہچانے نعت کے شاعر ہیں جس کی گواہی بہت سے لکھنے پڑھنے والوں نے دی ہے۔ مگر میں ان کی حمدیہ شاعری پر مختصر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ کئی حمدیہ کتابوں اور کئی حمدیہ جریدوں کے اشاعتی کارنامے کے علاوہ طاہرؔسُلطانی نے کچھ دوسرے ذریعوں سے بھی حمد کے ارتقاء اور اس کے فروغ میں اضافے کئے ہیں۔ انہوں نے حمدیہ مصرعے دے کر حمدیں لکھوائیں اور ان حمدوں کو اپنے جریدے’’ارمغانِ حمد‘‘ میں شائع کرتے رہے۔ وہ خود ایک اچھے حمد خواں اور حمد نگار رہے ہیں جو اپنی خوب صورت آواز کے پرکشش لحن کے ساتھ حمد کو عام لوگوں کی مقبولیت تک لے گئے ہیں۔ طاہرؔسُلطانی نے حمد کا کام کسی ایک شخص کی طرح نہیں کیا بلکہ انہیں ایک ادارے کی سی اہمیت و شہرت حاصل ہوگئی ہے…{پروفیسر جاذب قریشی}
ژژژژژ
ہم پھر اس بات کو دہراتے ہیں کہ طاہرؔ سُلطانی کے ہاں شاعرانہ بے باکیاں ہرگز نہیں ، شروع تا آخر ان کا دامن اس آلودگی سے پاک نظر آتا ہے۔ لگتا ہے بے خودی میں بھی وہ خودی کی لذت سے آشنا رہتے ہیں ، رہوار شاعری کو کھُلا نہیں چھوڑ دیتے ، حمد و نعت کے بیان میں تمام آدابِ کو ملحوظ رکھتے اور ان پابندیوں پر سختی سے عمل کرتے ہیں جو اس موقع کے لیے ضروری قرار دی گئی ہیں وہ اللہ اور اس کے محبوب کے درمیان خالق و مخلوق اور عابدو معبود کے فرق کو ایک لمحہ کے لیے بھی ذہن سے محو نہیں ہونے دیتے۔
عاشقانِ رسولﷺ اپنے آقا و مولا کے حضور نعت کا نذرانہ پیش کرکے، درحقیقت اپنے ربِّ اکبر کی سنّت اَدا کرتے ہیں۔ شمع رسالت کے ان پروانوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ان کا تعین کرنا کار مشکل ہے، یوں بھی اس کی چنداں ضرورت نہیں۔ تاہم اس وقت بستانِ محمدﷺ کے جس طوطیٔ خوش نوا کا تذکرہ پیش ہے اس کا نام طاہرؔسُلطانی ہے جو حمدونعت کو اپنی سانسوں کے زیروبم سے منسلک کرچکے ہیں۔ اس مشغلۂ روحانی کو مختلف رنگ و انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس وقت میرے سامنے ان کی جو نئی کاوش موجود ہے وہ اس اعتبار سے خاصی تنوع اور طرح دار ہے کہ بجائے خود نعت کی نعت ہے، اس کو طاہرؔسُلطانی نے ’’قصیدہ نعت‘‘ کا عنوان دیا ہے، اس طویل نظم کے اندر انہوں نے نعت کو مختلف رُخوں سے متعارف کرایا ہے جو پڑھنے اور سُننے سے تعلق رکھتی ہے۔ عشق و مستی کا ایک زمزمہ ہے جو شروع سے آخر تک بہتا چلا جاتا ہے۔ اس روانی کا سبب یقینا طاہرؔسُلطانی کا وہی خلوص عشق ہے جو حمدونعت کہتے وقت ان کے اندر کار فرما رہتا ہے۔ ان کے ہاں تصنع، بناوٹ اور عام شاعری کا سا تکلف ہرگز نہیں مِلتا، کہ یہی تو ان کے کلام کی خوبی، خوبصورتی اور ان کے ذوق و شوق کی حسین علامت اور دلیل ہے۔ میری دُعا ہے، اللہ تعالیٰ ان کی اس متاعِ عزیز کی خیر کرے، اور حمدونعت کی صورت میں ان کے نذرانہ ہائے خلوص و محبت کو شرف قبولیت بخشے۔آمین…{پروفیسر خیال آفاقی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی نعت خواں بھی ہیں اور نعت گو بھی۔ ان کی نعتوں میں سوز بھی موجود ہے اور ساز بھی، وہ لفظوں کو برتنے کا ہنر جانتے ہیں اس لئے نعت پاک کو نعت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر لکھتے ہیں۔ ان کے کلام میں مقامات جنبش ابرو شاذ و نادرہی آتے ہیں، ہر جگہ التجا اور دعا کا لہجہ کار فرما ہے، انکسار اور عاجزی ان کی فکر ایمان کی طرح پیوست ہے لہٰذا نہ اظہار میں کوئی فخر و مبالغہ ہے نہ کردارمیں کوئی منافقت…{خواجہ رضی حیدر}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی وہ قابلِ مبارکباد سُخن ور ہیں جنہوں نے اپنے دل، اپنی فکر، اپنے احساس اور اپنے قلم کو حمدِ باری تعالیٰ کی تخلیق کے لیے وقف کرنے کا باسعادت فریضہ نہ صرف مکمّل خلوص اور یکسوئی کے ساتھ اختیار کیا بلکہ اُسے ثابت قدمی سے برقرار بھی رکھّے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے نام کے ساتھ بصد افتخار ’’شاعرِ حمدونعت‘‘ لکھتے ہیں اور ان کو حمد نگاری سے طویل اور عقیدت آثار وابستگی کی بِنا پر اس کا حق بھی ہے۔ مجموعۂ سخن ’’حمدِ کردگار‘‘ جو حمدیہ کلام اور مناجات پر مشتمل ہے، جہاں طاہرؔسُلطانی کی شاعرانہ صلاحیتوں کا عکس گرہے وہاں اُن کے اُس صدقِ دل اور اخلاص فراواں کا بھی آئینہ دار ہے جو اُن کی ہر حمد کے پیکر میں دل بن کر دھڑک رہا ہے۔میں برادرم طاہرؔسُلطانی کو خلوصِ دل کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور بارگاہِ ایزدی میں دُعا گزار ہوں کہ اس شاعرِ حمدونعت کی توفیقات میں نہ صرف اضافہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس حمد نگار کی پُرخلوص کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا کرتے ہوئے طاہرؔسُلطانی کو اپنی بے پایاں رحمتوں،برکتوں اور نعمتوں سے نوازیں اور اِتنا نوازیں کہ طاہرؔسُلطانی زندگی بھر حمدونعت تخلیق کرکے اَدائے شُکر کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں…{پروفیسر حسن اکبر کمال}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی اس لحاظ سے قابلِ قدر ہی نہیں قابلِ رشک حیثیت کے مالک ہیں کہ وہ اپنے سارے وسائل اپنی ساری توانائی ان دو عظیم اصناف حمد و نعت کی آبیاری اور ترویج و ترقی پر صرف کررہے ہیں۔ایک ایسے زمانے میں جب ادب ، سیاست ، مذہب غرض ہر چیز کمرشل ہوگئی ہو، خدا اور محبوبِ خداﷺ کے ذکر و فکر کو اپنی زندگی اور تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور بنا لینا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور یہ سعادت بہ زور بازو بھی نہیں ہے…{پروفیسر علی حیدر ملک}
ژژژژژ
الحمدللہ! طاہرؔسُلطانی انہی مقاصد و عزائم کو ساتھ لے کر حمد و نعت نگاری کا حق ادا کررہے ہیں، ان کے یہاں خلوص ، دردمندی اور تڑپ کے ساتھ ساتھ (حسب توفیق) فنی اور معنوی التزامات بھی نظر آتے ہیں، وہ کوشش کرتے ہیں کہ نئی زمینیں پیدا کریں ، نئی اور شگفتہ ردیفیں لائیں اور ان ردیفوں کی مناسبت سے اچھے قوافی کا بندوبست کرتے ہوئے نئے نئے مضامین کے لیے گنجائش پیدا کریں۔ لفظیت اور شعریت میں وہ غنائی نظام بھی ان کے مد نظر ہے جو ’’نعت گوئی‘‘ کا ساز و سامان فراہم کرسکے۔ اگر اچھی نعت گوئی کو اچھی نعت خوانی کا وسیلہ ہاتھ آجائے تو نعت کی تفہیم و ابلاغ اور اس کے ذریعے سے دینی تبلیغ کی قدرتی فضا ہاتھ میں آجاتی ہے…{پروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی}
ژژژژژ
حمد باری تعالیٰ کے شعبے میں نسبتاً کم لکھا گیا۔ مگر کراچی کے جناب طاہرؔسُلطانی نے اس شعبے کو بھی چار چاند لگادیے۔ یہ دبلا پتلا خوش مزاج انسان بلا کی ہمت رکھتا ہے اور اپنی زندگی حمدباری تعالیٰ کے لئے وقف کرچکا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت و حاکمیت کا پرچم لہرارہا ہے۔ ایسے باہمت لوگوں کو دیکھ کر اپنی کم ہمتی پر افسوس ہوتا ہے۔ یہ لوگ اس دنیا ہی میں اپنے لئے جنّت بنارہے ہیں۔ یہ شریف النفس انسان اللہ تعالیٰ کا عاشق ہے۔ یہ نعت گو شاعر بھی ہے اور نعت خواں بھی مگر حمدِ خدا کے سلسلے میں ہمہ تن مصروف رہتا ہے۔ ان کے صاحبزادگان بھی اس سلسلے میں ان سے بھرپور معاونت کرتے ہیں۔ طاہرؔسُلطانی حمد کے سلسلے میں وہ بڑے بڑے کام کررہے ہیں جو بڑے بڑے اداروں کے بھی بس میں نہیں۔میں جب نور احمد میرٹھی (مولف’’بہرزماں بہرزباں‘‘) اور جناب طاہرؔسُلطانی جیسے دیندار، مخلص اور محنتی لوگوں سے ملتا ہوں تو میرے اندر ایک روحانی قوت سمٹ کر آجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے…{ضیاء الحق قاسمی}
ژژژژژ
اُردو میں حمد کے حوالے سے طاہرؔ سُلطانی کی خدمات سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ اس نے مجلّہ ’’جہانِ حمد‘‘ جاری کیا ، ماہنامہ ’’ارمغانِ حمد‘‘ کی باقاعدہ اشاعت اس کا بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ ان دونوں رسالوں کی خصوصی اشاعتیں اس پر مستزاد ہیں۔ پھر ’’خزینۂ حمد‘‘ ، ’’اذانِ دیر‘‘ ، ’’حریمِ ناز میں صدائے اللہ اکبر‘‘ اور ’’اُردو حمد کا ارتقا‘‘ ایسی تصانیف و تالیفات ہیں کہ حمد پر کام کرنے والا ان سے صرفِ نظر نہیں کرسکتا۔ ’’حمد میری بندگی‘‘ اس کا مجموعۂ حمد ہے۔ نعت کے حوالے سے اس کے فن کا ارتقا ’’مدینے کی مہک‘‘ سے ’’نعت میری زندگی‘‘ تک کے سفر سے واضح ہوتا ہے ۔ حال ہی میں اس کی ایک اور تالیف ’’خوشبوئوں کا سفر‘‘ پنجاب کے نعت گویانِ اُردو کے انٹر ویوز کا مجموعہ ہے۔ ماہانہ حمدیہ مشاعروں کا اہتمام بھی ساتھ ساتھ ہورہا ہے۔ اب تک اس کی فتوحات سے مترشح ہوتا ہے کہ میری عمر کو پہنچتے پہنچتے مجھ سے کہیں زیادہ کام کرلے گا۔ خدا کرے اس کی ’’جنّیت‘‘ کے مظاہر بھی زیادہ ہوں اور اس کی عمر بھی مجھ سے کہیں زیادہ ہوتا کہ وہ حمد اور نعت کے ضمن میں زندہ رہنے والا بہت زیادہ کام کرسکے۔اس لحاظ سے میں طاہرؔ سُلطانی کو اپنا محسن سمجھتا ہوں کہ اس نے مجھے حمد کی راہ پر لگایا…{راجا رشید محمود۔ لاہور}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی ایک عمرسے نعت خوانی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد نعت قرار دیا ہے، ایک ایسا والہانہ لگائو ان کو شہنشاہِ دوعالم سرورِ کونین محمد مصطفیٰﷺ سے ہے کہ وہ ہر وقت تعریف و توصیف اور ثنائے خواجہ میں مستغرق نظر آتے ہیں۔ نعت نبی میں کھوکر انہوں نے نعت کو اپنی زندگی قرار دیا ہے…{اقبال عالم}
ژژژژژ
عصر حاضر میں جو نوجوان شعراء نعت نگار کی حیثیت سے متعارف ہوئے ہیں ان میں طاہرؔسُلطانی کا نام بھی نمایاں ہے۔ عشقِ سرکارِ دوعالمﷺ کی دولت بے بہا انہوں نے وراثت میں پائی ہے۔ جس کا اندازہ ان کے حال اور قال سے بخوبی ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے نعتیہ اشعار میں جو کچھ کہا ہے وہ فیضان محبت کے زیر اثر راہوار تخیل کی صحیح سمت کی جانب جولانی کا مظہر ہے…{رشید وارثی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی حمدونعت گوئی میں ایک معتبر نام ہے۔ انہوں نے نہ صرف حمدیں ،نعتیں کہیں بلکہ حمدونعت کہنے والے شعراء کے کلام کو متعارف کرانے اور ان میں شوق کو مزید منہمک کرنے میں نمایاں کام انجام دیا ہے۔ وہ شاعر ہونے کے علاوہ ایک صحافی بھی ہیں۔ طاہرؔسُلطانی کی نعتیں انتہائی سادہ اُسلوب میں ہیں۔ ان کی نعتوں میں مدینہ بلائے جانے کی آرزوئوں اور بار بار روضۂ اقدس پر حاضری کی کی تمنائوں کا ذکر کثرت سے موجود ہے…{پروفیسر ڈاکٹر عزیز انصاری۔ ٹنڈوآدم}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی ملک کے معروف نعت گو اور نعت خواں ہیں۔ انہوں نے مشاعروں کے ناظم کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے لیکن ان کا اصل حوالہ ’’جہانِ حمد‘‘ اور ’’ارمغانِ حمد‘‘ کی ادارت ہے۔ یہ دونوں رسالے جاری کرکے انہوں نے وقت کی ایک بہت بڑی ادبی و دینی ضرورت کو پورا کیا ہے اور اس ضمن میں اوّلیت کا شرف بھی حاصل کرلیا ہے…{پروفیسر افضال احمد انور۔فیصل آباد}
ژژژژژ
جناب طاہرؔسُلطانی کی شخصیت کے کئی گوشے ہیں۔وہ ایک نعت خواں بھی ہیں اور حمدونعت کے معتبر شاعر بھی۔حمدونعت کے فروغ کے لئے مختلف جہتوں میں کوشاں بھی ہیں۔ نعت کے کئی ماہنامے وطنِ عزیز میں شائع ہو رہے ہیں لیکن خالصتاً حمد کے موضوع پر ان کی کوششیں اپنی مثال آپ ہیں۔طاہرؔسُلطانی صاحب نے ’’ارمغانِ حمد‘‘ اور’’جہانِ حمد‘‘ کے ذریعے صنفِ حمد پر سب سے زیادہ اور وقیع کام کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ماہانہ حمدیہ مشاعروں کا پابندی سے اہتمام حمدیہ ادب میں اضافے کا ایک کامیاب سبب ہے جس سے شعراء میں نعت کے ساتھ حمد کہنے کا رجحان بڑھا ہے۔ان ہی کوششوں کی برکت سے کئی حمدیہ مجموعے منظرِ عام پر آئے ہیں جبکہ اس سے پہلے خال خال ہی حمدیہ کتب شائع ہوئیں۔اب طاہرؔسُلطانی ایک شخص کا نام نہیں ہے۔انہوں نے ادارے کی شکل اختیار کرلی ہے اور ایسا ادارہ جس میں پاکیزگی و تازگی اور تابندگی ودر خشندگی پورے طورپر جلوہ گر ہے…{نوراحمد میرٹھی}
ژژژژژ
طاہرؔ سُلطانی کی نعت پڑھتے ہوئے ہمیں جو باتیں اُن کی نعت میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ذکر مدینہ،دیدِ گنبدِ خضریٰ اور برکاتِ درود پاک ہیں۔مدینہ محبانِ نبی رحمتﷺ کی جان میں بسا ہوا ہے۔اسی طرح درود پاک وہ وظیفہ ہے جو زبان کا ذکر اورقلب و روح کی روشنی ہے اور گنبدِ خضریٰ کی دید سے عاشق آنکھوں کی طراوت بھی حاصل کرتے ہیں اور درجہ ایمان کو بھی یہ بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔طاہرؔ  سُلطانی کی نعت میں سادگی، دلکشی اور تغزل کی چاشنی بدرجہ اتم موجود ہے۔اُن کی نعتیں فنی اور فکری طور پر نہایت پختگی اور وسعت رکھتی ہیں۔عقیدت کا رنگ خلوص کا دلکش پیرایہ،شمائل و خصائل رسولﷺ کا بیان اُن کی نعتوں میں تاثیر کا باعث ٹھہرا ہے۔جس نے طاہرؔ سُلطانی کی نعت کو کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ اُن کی نعت نگاری کا یہ سفر ارتقا کی منزلیں طے کرتا رہے۔آمین…{محمداقبال نجمی۔گوجرانوالہ}
ژژژژژ
خدا نے حمدیہ شاعری کی ترویج و ترقی کے لئے ایک ایسی شخصیت کو منتخب کیا جس کا نام طاہرؔسُلطانی ہے یہ شخص خود بھی شاعر ہے اور دوسرے شعرا ء سے حسن عقیدت رکھتا ہے۔نام و نمود سے بے نیاز اور جذبہ شہرت سے بے پروا ہو کر اس نے ’’جہان حمد پبلی کیشنز‘‘ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قائم کیا ہُوا ہے۔اگر چہ طاہرؔسُلطانی کے پاس مالی وسائل نہ تھے اور شریک کاروں کی کمی تھی مگر ایک جذبہ صادق جس کے تحت اس نے متعدد کتابیں شائع کیں۔ طاہرحُسین طاہرؔ سُلطانی نے آسان اور سادہ الفاظ میں شاعری کی ہے۔ شکوہ الفاظ کا ذخیرہ اُن کے کلام میں کم ضرور ہے مگر اعلیٰ و ارفع اور پاکیزہ خیالات کی بہتات نظر آتی ہے۔ طاہرحُسین طاہرؔ سُلطانی نہایت خوش نصیب ہیں اور یہ خوش نصیبی یقینا اُن کے والدین اور بزرگوں کی دُعائوں کا ثمر ہے کہ انہوں نے حمدونعت نگاری کا انتخاب کیا۔ طاہرؔ سُلطانی حمدونعت گوئی کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ بحیثیت حمدونعت نگار وطنِ عزیز پاکستان کی آبرو اور وقار بن کر اکیسویں صدی پر اپنے اثرات مرتب کریں گے۔ (انشاء اللہ )…{ڈاکٹراخترہاشمی}
ژژژژژ
طاہرؔسُلطانی ایک دینی اسکالر اور عملی صحافی ہے۔ طاہرؔسُلطانی بڑا باکمال منکسر المزاج ، سادہ طبیعت اور مشنری جذبے کا حامل ایسا انسان ہے جس کی موجودہ عہد کو اشد ضرورت ہے۔وہ بڑوں کا احترام تو کرتا ہی ہے لیکن چھوٹوں کو بھی بڑا بنانے کا عادی ہے۔ وہ حوصلہ شکنی کے رواج میں حوصلہ افزائی کرنے کا عادی ہے۔ وہ اپنے بڑے کام کو بھی چھوٹا کام ظاہر کرتا ہے۔سچ یہ ہے کہ حضرت طاہرؔسُلطانی کی گراں قدر خدمات کرتے ہوئے جب وطن عزیز نقاد، محققین، شعراء اور اُردو ادب کے روشن ماہتاب و آفتاب برملا کر رہے ہیں تو میری چند سطور کی حیثیت کیا ہوگی۔ میرے لیے یہی بات بہت ہے کہ میرا شمار طاہر بھائی کے دوستوں میں ہوتا ہے…{ملک محبوب الرسول قادری۔ لاہور}
ژژژژژ
ادارہ ’’ارمغانِ حمد‘‘ و ’’جہانِ حمد‘‘ اور خاص کر نوجوان شاعر، شاعرِ حمدونعت طاہرؔسُلطانی کی ہمت مردانہ ہے کہ مسلسل انداز سے ’’ارمغانِ حمد‘‘ کی اشاعت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ حمدیہ شماروں اور کتابی سلسلوں اور ماہانہ حمدیہ مشاعروں سے ملک بھر میں حمد کے فروغ میں نمایاں کوششیں کر رہے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ طاہرؔسُلطانی اور ’’جہانِ حمد‘‘ سے پہلے ہندوپاک میں حمد گوئی کا چرچا نہ ہونے کے برابر تھا جو اب مردِ مجاہد طاہرؔسُلطانی کی محنت سے ایک تحریک کی شکل اختیار کرگیا ہے…{پروفیسر سہیل اختر۔سرگودھا}
ژژژژژ
فنِ حمد، نعت گوئی اسلامی تہذیب کا ایک امتیازی مظہر ہے جس کی مثال کسی دوسری تہذیب میں نظر نہیں آتی ہے۔ ہمارے سخنوروں میں شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہو جس نے اس شرف سے کچھ نہ کچھ بہرہ مند نہ ہوا ہو، لیکن سیّد طاہر حسین سلطانی کی طرح حمد و نعت کے حوالے سے بہ سعادت کسی کسی کے حصّے میں آتی ہے۔ عقیدے کا رسوخ اور شعور کی جدّت طاہر سلطانی صاحب کے اندر کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے اور محافل میں خوبصورت ترنم کے ساتھ اپنے اشعار نذرِ سامعین کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مترنم لب و لہجہ بعض اوقات شاعری کی ادبی حیثیت کو کمزور کردیتا ہے،مگر طاہر سلطانی صاحب کی حمدونعت میں ترنم ان کی فکری جولانیوں میں اضافے کا موجب بنتا ہے…{ڈاکٹر شبیہہ الحسن۔ لاہور}
ژژژژژ
طاہرؔ  سُلطانی کی حمدیہ اور نعتیہ تخلیقات کے مطالعے سے ایک بات نے مجھے اس قدر متاثر کیا ہے اور میرا خیال ہے جس نے بھی ان کے کلام کا عمیق نظر سے مطالعہ کیا ہے اُسے بھی ضرور متاثر کیا ہوگا کہ وہ قرآن اور سنّت کی روشنی میں حمدونعت کہتے ہیں۔ وہ اسمائے حسنہ کے مخزنِ حقیقی کے حوالے سے اپنی صفات اور تخلیقات کا رزق بناتے ہیں۔ یہ الوہیت کی بیانیہ شہادت ان کی حمد کو ضیائے انفرادی عطا کرتی ہے اسی طرح جب وہ نعت کے گلستاں میں گلہائے رنگا رنگ مہکاتے ہیں تو سیرت اقدس کے غنچے چٹکتے ہیں اور اسوۂ حسنہ کا سرمدی موسم اپنی آب و تاب سے دلوں کو منوّر کرتا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فروغِ حمد و نعت میں مشاہر ادب میں ان کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا کسی ایک صنف کو آفاقی سطح پر تو بہت سے تابندہ مدیر و مصنّفین جگمگانے میں کامیاب ہوئے ہیں مگر طاہرؔ  سُلطانی تو بہت سے اداروں کو بامِ عروج پرپہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں اور ان کی قلبی تمنّائوں اور ان کی مستقبل کے ارادوں میں خیر و  برکت ڈالے ان کے چشمۂ تخلیق میں خیر کثیر کے انوار بھردے۔ ایں دُعا از من و از جملہ جہاں آمین باد…{گوہر ملسیانی۔ صادق آباد}
ژژژژژ
عام فہم بحروں کو بھی استعمال کیاہے تاکہ بات زیادہ سے زیادہ لوگ آسانی سے سمجھ سکیں۔ سنّتِ رسول اور معجزاتِ رسولﷺ کی باتوں کو بھی آپ نے تبلیغ کے انداز میں بیان کیا ہے مگر شعر کو وعظ نہیں بننے دیا…{احسان اللہ  طاہر۔ گوجرانوالہ}