شام شہر ہول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو یاد آکر اس نگر میں حوصلہ دیتا ہے تو

منیرؔ نیازی

شام شہر ہول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو
یاد آکر اس نگر میں حوصلہ دیتا ہے تو

آرزو دیتا ہے دل کو موت کی وقتِ دعا
میری ساری خواہشوں کا یہ صلہ دیتا ہے تو

حد سے بڑھ کر سبز ہو جاتا ہے جب رنگِ زمیں
خاک میں اس نقشِ رنگیں کو ملا دیتا ہے تو

تیز کرتا ہے سفر میں موجِ غم کی یورشیں
بجھتے جاتے شعلۂ دل کو ہوا دیتا ہے تو

ماند پڑ جاتی ہے جب اشجار پر ہر روشنی
گھپ اندھیرے جنگلوں میں راستہ دیتا ہے تو

دیر تک رکھتا ہے تو ارض و سما کو منتظر
پھر انہیں ویرانیوں میں گل کھلا دیتا ہے تو

جس طرف سے تو گزر جاتا ہے اے جانِ جہاں
دور تک اک خواب کا منظر بنا دیتا ہے تو

اے ’’منیرؔ‘‘ اس رات کے افلاک پر ہونا ترا
اک حقیقت کو فسانہ سا بنا دیتا ہے تو