شرف کے شہر میں ہر بام و در حسین کا ہے

شرف کے شہر میں ہر بام و در حسین کا ہے
زمانے بھر کے گھرانوں میں گھر حسین کا ہے

فراتِ وقتِ رواں ! دیکھ سوئے مقتل دیکھ
جو سر بلند ہے اب بھی وہ سر حسین کا ہے

زمیں کھا گئی کیا کیا بلند و بالا درخت
ہرا بھرا ہے جو اب بھی شجر حسین کا ہے

سوالِ بیعتِ شمشیر پر جواز بہت
مگر جواب وہی معتبر حسین کا ہے

کہاں کی جنگ کہاں جا کے سر ہوئی ہے کہ اب
تمام عالم خیر و خبر حسین کا ہے

محبتوں کے حوالوں میں ذکر آنے لگا
یہ فضل بھی تو مرے حال پر حسین کا ہے

حضور شافع محشر ، علی کہیں کہ یہ شخص
گناہ گار بہت ہے مگر حسین کا ہے

(افتخار حسین عارف)​