شعورِ ایمان و آگہی جس شیٔ پر ضیا ہے وہی خدا ہے

ابرارؔکرت پوری

شعورِ ایمان و آگہی جس شیٔ پر ضیا ہے وہی خدا ہے
یقین کامل کی ابتدا ہے جوانتہا ہے وہی خدا ہے
ہر ایک تارِ نفس میں پنہاں وہی تو ہے اقرب رگ جاں
دلوں میں جو اعتبار بن کر دھڑک رہا ہے وہی خدا ہے
وہی تو معبود کل جہاں ہے یہ حق ہے مسجود انس وجاں ہے
بلطف اکرام و استعانت جلا رہا ہے وہی خدا ہے
سمندروں میں ہیں اس کے نقشے ہر ایک منظر زباں سے بولے
جو ماء وطیں میں ہزار جلوے بکھیرتا ہے وہی خدا ہے
وہی ہے غفار اور رحمن ہر آدمی پر ہے جس کا احسان
جو رزق و آب و ہوا سے سب کو نوازتا ہے وہی خدا ہے
ہے راستہ مستقیم جس کا ہے پاک قرآن عظیم جس کا
جہاں کے سب رہ برانِ اعظم کارہنما ہے وہی خدا ہے
حسین لیل وفلق بھی اس کے یہ سچ ہے چودہ طبق بھی اس کے
جو عالموں کو بہ حسن قدرت چلارہا ہے وہی خدا ہے
کہاں ثنا ئے امین قدرت کہاں میں ابرارِؔ بے بضاعت
جو حمد کہنے کا مجھ کو اعزاز بخشتا ہے وہی خدا ہے