شمعِ عرفان و یقیں دل میں جلادے مولیٰ راہ جو سیدھی ہے، وہ راہ بتادے مولیٰ

ڈاکٹرشرف الدین ساحلؔ

شمعِ عرفان و یقیں دل میں جلادے مولیٰ
راہ جو سیدھی ہے، وہ راہ بتادے مولیٰ

تجھ کو پانے میں یہ قوت ہے رکاوٹ کاسبب
فتنہ و شر کو مرے دل سے مٹادے مولیٰ

ہوں گرفتار میں گردابِ مسائل میں ابھی
کشتیِٔ زیست مری پار لگادے مولیٰ

میرا ہر لفظ ترے عشق کا مظہر بن جائے
سوچ کو میری وہ پاکیزہ ادا دے مولیٰ

تیرے مصحف کی تلاوت کروں آسانی سے
نور آنکھوں کا مری اتنا بڑھادے مولیٰ

عالم فانی و باقی میں بھلائی دے دے
نارِدوزخ سے بھی ساحلؔ کو بچادے مولیٰ