صف انصار کی جانب اٹھیں آنکھیں نبوت کی

انصار کا جوش ایمان

صف انصار کی جانب اٹھیں
آنکھیں نبوت کی
تو سعد ابن معاذؓ اٹھے دکھائی
شان جرات کی
ادب سے عرض کی انصار ہیں
ہم یا رسول اللہؐ
غلام سید ابرار ہیں ہم یا
رسول اللہؐ
خدا نے ہم غریبوں پر
عجب احسان فرمایا
کہ ختم المرسلیں اس شہر
میں تشریف لے آیا
جہاں میں اس سے بڑھ کر
کوئی عزت مل نہیں سکتی
کسی کو بھی ابد تک اب یہ
دولت مل نہیں سکتی
خدائے پاک کے فرمان پر
ایمان لائے ہم
رسول اللہؐ پر قرآن پر
ایمان لائے ہم
تو کیا اب موت کے ڈر سے
یہ دولت ہم گنوا دیں گے
بھلا دیں گے احساں بار
لغت سر پہ لا دیں گے
تعالی اللہ یہ شیوہ نہیں
ہے با وفاؤں کا
پیا ہے دودھ ہم لوگوں نے
غیرت دار ماؤں کا
صداقت دیکھ کر رکھا تھا
ان قدموں پہ سر ہم نے
کہ مانا آپ کو روشن
دلائل دیکھ کر ہم نے
قسم اللہ کی جس نے نبیؐ
مبعوث فرمایا
سبھی کچھ پا لیا جس وقت
ہم نے آپ کو پایا
گدائی کے در کی ہماری
پادشاہی ہے
ہمیں تو آپ کا ارشاد ہی
وحی الٰہی ہے
ہمیں میدان میں لے جائیے
یا شہر میں رہئے
کسی سے صلح کو فرمائیے یا
جنگ کو کہئے
ہمارا فرض ہے تعمیل
کرنا رائے عالی کی
ہماری زندگی تکمیل ہے ایمائے
عالی کی
ہمارا مرنا جینا آپ کے احکام
پر ہو گا
کسی میدان میں ہو خاتمہ
اسلام پر ہو گا
اگر ارشاد ہو بحر فنا میں
کود جائیں ہم
ہلاکت خیز گرداب بلا میں
کود جائیں ہم
نبیؐ کا حکم ہو تو
پھاند جائیں ہم سمندر میں
جہاں کو محو کر دیں
نعرہ اللہ اکبر میں
قریش مکہ تو کیا چیز ہیں
دیووں سے لڑ جائیں
سنان نیزہ بن کر سینہ
باطل میں گڑ جائیں ہم