عبد ہوں تیرا میں کرتا ہوں عبادت تیری نام حامدؔ ہے کیا کرتا ہوں مدحت تیری

حامدؔ امروہوی

عبد ہوں تیرا میں کرتا ہوں عبادت تیری
نام حامدؔ ہے کیا کرتا ہوں مدحت تیری

میں بشر ہوں مری فطرت ہے خطائیں کرنا
بخش دینا مرے اللہ ہے عادت تیری

ہم نے جانا جو تجھے یہ بھی کرم ہے تیرا
یہ بھی رحمت ہے کہ کرتے ہیں عبادت تیری

جس پہ ہو تیرا کرم وہ یہ شرف پاتا ہے
ہر کسی کو کہاں ملتی ہے محبت تیری

اپنے محبوب کو بھیجا ہے ہدایت کے لئے
ہم گنہ گاروں پہ کتنی ہے عنایت تیری

کوئی کچھ بھی کہے لیکن مرا ایمان یہ ہے
تیرے محبوب کی طاعت ہے اطاعت تیری

مدح سرکارِ دوعالمؐ کا ہے صدقہ حامدؔ
حمد میں اور نکھرتی ہے فصاحت تیری