عشقِ نبیﷺ ہو دل میں تو ضو بار ہے حیات دولت ، اگر نہیں یہ ، تو بیکار ہے حیات

نعت

عشقِ نبیﷺ ہو دل میں تو ضو بار ہے حیات
دولت ، اگر نہیں یہ ، تو بیکار ہے حیات
جو اسوۂ رسول کے سانچے میں ڈھل گئی
حُسنِ عمل کا آئینہ ، شہکار ہے حیات
کل بھی وہ زندگی کی بہاروں کے تھے امیں
اور آج بھی اُنہیں سے یہ گلزار ہے حیات
جب بھی تصوّرات میں آپ آگئے حضورﷺ
ایسا لگا ، کہ جیسے ضیا بار ہے حیات
وابستگی نبیٔ مکرّم سے جِس کی ہے
وہ شخص ہوش مند ہے ، بیدار ہے حیات
جنّت نشاں مدینے کی گلیوں کے شوق میں
روزِ ازل سے اپنی گرفتار ہے حیات
طاہرؔ! نبیﷺ کا عشق میسّر نہ ہو جِسے
اُس کی ہر اعتبار سے بیکار ہے حیات

طاہرسلطانی