غرور کج کلاہی سے بچالے خدارا کم نگاہی سے بچالے

سیدابرنغمیؔ

غرور کج کلاہی سے بچالے
خدارا کم نگاہی سے بچالے

نہ ہو انصاف پر بنیاد جس کی
تو ایسی بادشاہی سے بچالے

جو باطن میں ہو عصیاں کا سمندر
وہ ظاہر بے گناہی سے بچالے

جہاں ہر شہر ہو مقتل کا منظر
تو اس عالم پناہی سے بچالے

عطا نغمیؔ کو ہو عشق محمدؐ
مزاج خانقاہی سے بچالے