غمِ دوراں میں خوش رہنے کی یہ صورت نکالی ہے غمِ سرکار لے کر زندگی جنت بنالی ہے

غمِ دوراں میں خوش رہنے کی یہ صورت نکالی ہے
غمِ سرکار لے کر زندگی جنت بنالی ہے

مے عشقِ نبی پی کر متاعِ ہوش پا لی ہے
مری بادہ کشی کیفیؔ زمانے سے نرالی ہے

فنائے عشقِ احمد ہو کے معراجِ وفا پا لے
کہ وجہ سرفرازی اہلِ دل کی پائمالی ہے

خدارا دولتِ دیدار سے بھر دیجیے دامن
نگاہِ ملتجی کب سے زیارت کی سوالی ہے

تڑپ کر اُن کے غم میں شادماں رہتا ہوں مَیں کیفیؔ
میری آشفتگی میرے لیے آسودہ حالی ہے
حنیف کیفی (دہلی۔بھارت)