فرحت حسین خوشدلؔ کی نعتیہ شاعری میں پیغام اسلام کی ضو باریاں

فرحت
حسین خوشدلؔ کی نعتیہ شاعری میں
پیغام
اسلام کی ضو باریاں

منصورؔ
فریدی‘ تالا پارا
بلاسپور(چھتیس
گڑھ
)‘

موبائل
نمبر۔
۰۹۹۷۳۴۵۹۲۷۱
جہانِ
شعر و سخن میں نعتیہ شاعری اس مہذب صنف کا نام ہے جہاں آکر تقدس مآب شخصیتوں نے
اپنی تقدیس برقرار رکھی انہیں تقدس مآب شخصیتوں کی روش پر چلتے ہوئے جن حضرات نے
نعتیہ شاعری کے حوالے سے اپنی عظمت و وقار کو بحال رکھا اور دنیائے سخن میں اپنی
الگ شناخت قائم کرنے میں ہمہ دم کامیاب و کامران رہے ان میں ایک خوبصورت ‘روح
افزا‘فرحت بخش نام جناب فرحت حسین خوشدلؔ کا ہے۔
خوشدل
ؔنہ صرف دنیائے ادب میں نعتیہ شاعری کے حوالے سے جانے جاتے ہیں بلکہ بہترین غزل گو
اور بہترین مضمون نگار ‘مبصر‘ناقد اور ادیب بھی جانے جاتے ہیں۔دنیائے نقدو نظر میں
اپنی شعوری بصیرتوں کی بنیاد پر ایک صالح ادب اور تعمیری مزاج رکھنے والے ناقد کی
حیثیت سے اپنی پہچان بنانے میں نہ صرف وہ کامیاب ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں پر راج
بھی کر رہے ہیںاور ادب شناس ادباء کے یہاں معتبر بھی۔ گزشتہ دو دہائی سے اپنی
تخلیقات کو لے کر رسائل و جرائد میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں اور
مسلسل تحریر ی میدان میں لگے رہنا ان کی فطرت کا وتیرہ ہے۔نظریاتی اختلافات اور
فکری رجحانات میں بھی کئی معاملوںمیں آپ کے یہاں تصلّب ہے۔ان کی نثری تخلیقات پر
کسی اور موقع پر گفتگو کروں گا۔اس وقت موصوف کی نعتیہ شاعری میں پیغام اسلام کی
ضوباریاں کے حوالے سے مجھے کچھ گفتگو کرنی ہے۔ آپ کی نعتیہ شاعری عصر حاضر کے
دیگر شعرائے کرام سے ہٹ کر مجھے نظر آئی۔آپ نے اپنی شعری شخصیت کا لوہا لوگوں سے
کچھ اس طرح منوایا کہ آپ کا ہر شعر کچھ نہ کچھ پیغام اور انقلابی کیفیت کا حامل
ہوتا ہے۔
معجزات
رسول ﷺ اور پیغام اسلام کے  ان پوشیدہ
پہلوئوں کو بھی اپنے اشعار میں پرو کر قارئین
کے دل و دماغ کو اسلامیات اورشعرائے کرام کی تخلیقات کو صرف خیال و فکر کے
خیالوں سے نہیں بلکہ   زمینی حقیقت اور
اسوۂ سید ابرار  ﷺ سے جوڑ کر سیرتِ سرکار
کو شعروں میں پرونے کی ترغیب و ترہیب بھی دلاتے ہیں۔گویا آپ نے شاعری صرف تفکرات
کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی تفکرات کو اعتبار بخشنے کے لیے چیدہ چیدہ حدیث مصطفیٰ
ﷺ کی ترجمانی کرتے ہوئے اسوۂ رسول کو گلے سے لگایا ہے۔یوں تو ان کے شعروں میں
جہاں نصیحت آموز مضامین کی فراوانی ہے وہیں شعری حسن وجمال سے سبھی اشعار آراستہ
اور مزین بھی ملتے ہیں۔بھاری بھرکم لفظوں سے گریز اور سلیس زبان و بیان کے عادی
ہیں۔وہیں فصاحت و بلاغت اور سلاست بیانی کا دریا موجیں مارتا ہے۔ان تمام خوبیوں کا
پس منظر مطالعہ کائنات اورمطالعہ کتب کا غماز ہے۔
میں
سمجھتا ہوں کہ خوشدلؔ نعتیہ شاعری کے جس اسلوب کی اس وقت پرورش کر رہے ہیں اگر یہی
کام تمام شعرا کرنے لگ جائیں تو سرکار کے اقوال اور صحابہ کے کردار ہمارے سامنے
نمایاں طریقے سے آسکتے ہیںجس سے بہت بڑا فائدہ اپنی ملت کے افراد کو ہوگااور جب
محفلوں میں ننھے ننھے بچے اس کو گنگنائیں گے تو سامعین کے دلوں میں اس کے مثبت
اثرات مرتب ہوں گے۔گھروں کے ماحول بدلیں گے اور سماج میں صالح قدروں کا ماحول
پروان چڑھے گا۔جہاں روز و شب خواجۂ کائنات کے افعال اور اقوال پر عمل بھی ہو
گااور ایمانی ضیاباریاں بھی۔
خوشدلؔ
نے اپنی بے پناہ مصروفیتوں کے باوجود اپنی نعتیہ شاعری کے اکثر مقامات پر اتنے
خوبصورت اشعار اپنی چابکدستی اور فکری توازن کے ساتھ نکالاہے کہ سامع کو حمد کا
گمان ہوتا ہے۔بقول صابرؔ جبلپوری   ؎
اس
عقیدت سے پڑھی صابر ؔنے نعت مصطفی  ٭
سننے  والوں کو سنا ہے  حمد کا دھوکا
ہوا
آپ
کی نعتیں بھی کچھ انہیں کیفیات سے مملو ہیں۔حالانکہ آپ نے حمد‘نعت اورنعت میں نعتیہ
ثلاثی ‘خمسہ‘ منقبت اور سلام نہایت سلاست کے ساتھ کہی ہیں۔آپ قطعات میں بھی اچھا
درک رکھتے ہیں۔فہم و ادراک کے ساتھ درمیان ِمطالعہ ان کے اشعار تہدار معنوی
بصیرتوں کا پتہ دیتے ہیں اور نقاد کے انتقادی جذبوں کااحترام کرتے ہوئے اس کی
کسوٹی پر کھرے اترنے میں دیر نہیں کرتے۔یہی
سبب ہے کہ تنقیدی بصیرتوں کے حامل شخصیات نے آپ پر مثبت پہلوئوں کے ساتھ
تبصرہ کیا ہے اس وثوق کے ساتھ کہ ان کے یہاں فنی جھول دور دور تک نہیں ملتا۔آپ
پرعلامہ ناوکؔ حمزہ پوری‘سعیدؔ رحمانی ‘ابوالبیان حمّادؔکے علاوہ دیگر شخصیتوں نے
بھی اپنے تاثرات اور تنقیدات کے ساتھ حسن و قبح بیان کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے
مگر ان کے کلام کی بلاغت نے کسی کو انگلی رکھنے کی اجازت نہیںدی ۔
سطور
بالا میں ‘میں نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ آپ کے یہاں حمد سے لے کر تمام اصناف
سخن پر طبع آزمائی کی ہے اور وہ بھی برائے نام نہیں بہتات کے ساتھ۔نعتیہ ثلاثی ہو
یا منقبت‘حمد کے اشعار ہوں یا قطعات‘ سلام ہو یا واردات قلبی کی دیگرکیفیات کی ہر
جگہ جلوہ سامانی اور عکس ریزی موجود ہے۔آمد رسول ﷺ سے قبل کی کیفیت اور حالات سے
کون واقف نہیں۔یہ حقیقت ہر ایک پر روشن ہے کہ نا انصافی اور ظلم وجبر کی سرگرمیاں
جو اس وقت اپنے شباب پر تھیں آپ کے آتے ہی یکسر بدل جاتی ہیں۔اس روشن انقلاب کو
شاعر کیسے خوش آمدید کہتا ہے ملاحظہ فرمائیں
؎
آپ
آئے تو مہک اٹھا بصیرت کا گلاب
۔
خُلق
کی خوشبو میں پوشیدہ ہے سیرت کا گلاب
آپ
کی طاعت میں پوشیدہے رب کی بندگی
۔
فاتّبعونی
میں پنہاں ہے اطاعت کا گلاب
عمر
بھر نعتِ نبی خوشدلؔرہے لب پر ترے
۔
یونہی
بس کھلتا رہے ہونٹوں پہ مدحت کا گلاب
چونکہ
مدحت سید والا سے لاکھوں نے اپنی تقدیر جگائی ہے اور اپنے لیے نجات و بخشش کا
سامان کیا۔نعت کا لکھنا پڑھنااور سننا یہ سب کے سب عبادت میں شامل ہیںاور نعت کہنے
والا اپنی مرادیں ضرور پاتا ہے کیونکہ تاریخ اسلام کا وہ ذریں باب بھی میری نگاہوں
کے سامنے ہے۔یہی وہ نعت ہے جس نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہ
اعزاز دیا کہ سرکار خود نیچے بیٹھے اور منبر پر حضرت حسان کو بیٹھا کر نعت پڑھنے
کا حکم فرمایا۔شاعر اپنی بخت پر نازاں ہے اور کچھ یوں گویا ہے   ؎
نعت
جب لکھتا ہوں تو میرا قلم جاگتا ہے
٭
یاد
جب آتے ہیں وہ دیدۂ نم جاگتا ہے
حمد
اور نعت کے اشعار سجانے کے لیے
٭
میرے
ہاتھوں میں ہر اک لمحہ قلم جاگتا ہے
اور
آگے جاکر پھر یوں کہتے ہیں   ؎
ان
کی مدحت کی بدولت ہوا سینہ روشن
٭
نعت
لکھتا ہوں تو ہو جاتا ہے خامہ روشن
آپ
آئے تویہ اعجاز جہاں نے دیکھا
٭
سارے  عالم پہ ہوئے نقش ِصحابہ روشن
جس
سے تفریق عرب  اور عجم ختم ہوئی
٭
علم
والوں پہ ہے  وہ آخری خطبہ روشن
’’جس سے تفریق عرب  اور
عجم ختم ہوئی۔علم والوں پہ ہے  وہ آخری
خطبہ روشن‘‘ اس شعر کے ذریعہ شاعر نے پیغام رسولﷺ کی ہمہ گیریت اور آپسی اختلافات
خصوصاََ آج جو علاقائی عصبیت لوگوں کے دلوں میں پل رہی ہے کا ذکر بڑی خوبصورتی سے
کیا ہے ۔میں نے دیکھا ہے علم و ادب اور فن کے ساتھ قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہونے
کے باوجود بھی صبح سے شام تک اپنا وقت علاقائی عصبیت اور تنگ نظری کا آئینہ داربن
کر گزاردیتے ہیں ۔ انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہمارے وجود کا مقصد کیا ہے۔ہم کس
مقام پر بیٹھ کر قوم کے سرمائے‘امن و سکون‘اتحاد و اتفاق کو ضائع کر رہے ہیں۔اللہ
کے رسول کی نگاہ بصیرت ایسے افراد پر بھی تھی۔یہی سبب ہے کہ رسول ﷺ نے اپنی زندگی
کے آخری لمحات میں بھی علاقائی تفوق و برتری کو دور کرنے اور عرب کو عجم پر عدم
تفوق کا درس دیا۔اس کے علاوہ بھی خوشدلؔ کے یہاں رنگ طریقت اور رموز تصوف کے حوالے
سے بھی خوبصورت اشعار دیکھنے کو ملتے ہیں‘جہاں طریقت کی اعلیٰ منزلوں کے ذکرمیں سر
مستی ٔشوق ِجنوں کا عکس ملتا ہے مثلاََ   ؎
مئے
عشق شاہ بطحا کا جسے پتہ نہیںہے
٭
وہ
خدا کی بندگی سے ابھی آشنا نہیں ہے
مرے
دل میںشاہ دیں کا ہے چراغ کب سے روشن
٭
جو
ہزار آندھیوں میں سرِ رہ بجھا نہیں ہے
علامہ
اقبال نے کہا ہے    ؎
کی
محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
۔
یہ
جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
مگر
اسی مضمون کی ترجمانی خوشدلؔ کس اسلوبی کے ساتھ کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں کہ احساس
تک نہیں ہوتا کہ کوئی پرانا مضمون دہرایا جا رہا ہے۔صرف اس وجہ  سے کہ آپ نے سلاست بیانی کا مکمل جوہر اور
ادیبانہ تیور کے ساتھ شعوری بصیرتوں کو بھی مکمل اور مستعد کیا ہے ملاحظہ ہو   ؎
نعمت
عظمیٰ ملے گی تجھ کوخوشدلؔ شرط ہے   ٭  کر محمد
کی اطاعت رب کا یہ فرمان ہے
ٹھیک
اسی طرح ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ کو اپنی نگاہوں میں رکھتے ہوئے خوشدلؔ
یوں رقم طراز ہیں    ؎
قلم
خوشبو کا مل جائے صحیفہ نعت کالکھّوں
۔
ادب
گاہِ حرا لکھّوں انہیں بعد از خدا لکھّوں
نہیں
آسان ہے حمد و ثنا اور نعت کا لکھنا
۔
نبی
کو میں نبی لکھّوں خدا کو میں خدا لکھّوں
سند
بن جائے اک اک حرف میری نعت کا مولیٰ
۔
امام
احمد رضاؔ جیسی میں نعت مصطفیٰ لکھّوں
دراصل
ان کیفیات قلبی کو صفحۂ قرطاس پر لانے میں خوشدلؔ کو دقتوں کا سامنا نہیں کرنا
پڑتا خاص کر اس وقت جب قلب مومن میں عشق کی شمع فروزاں ہو الفاظ خودبخود لفظوں کا
جامہ پہن کر اور سج دھج کر رونق قرطاس ہوتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں   ؎
نبی
کے عشق کا دریا مرے سینے کے اندر ہے
۔
اگر
یہ عشق صادق ہے تو پھر کس بات کا ڈر ہے
محبت
سرور کونین کی جس دل میں ہو خوشدلؔ
۔
بلا
شک بر سرِ اوج فلک اس کا مقدّر  ہے
جہاں
تک میرے مطالعہ میں آیاہے ان کے مذکورہ بالا اشعار میں کسی بھی قسم کی کمی کا احساس
نہیں ہوا ہاں اتنا ضرور ہے کہ ان شعروں کی کیفیات سمجھنے کے لیے تھوڑا سنجیدہ ہونا
پڑے گاورنہ سرسری مطالعہ کے دوران کئی مقامات ایسے آئیں گے جہاں عجلت پسند گھبرا
کر کچھ بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کے چند اشعارآپ کے ذوق مطالعہ کے
حوالہ کر رہا ہوں   ؎
نبی
کے اسوۂ حسنہ کا یہ کمال رہا
۔
جو
ان کی رہ پہ چلا وہ شگفتہ حال رہا
نبی
کے عشق میں یہ حال ہے مرے دل کا
۔
نہ
فکر فردا ‘ نہ امروز کا خیال رہا
قرطاس
دل پہ جب لکھا نغمہ رسول کا
۔
لفظوں
میں‘ میں نے دیکھا سراپا رسول کا
عہد
گزشتہ لوٹ کر آئے گا ہے یقیں
۔
پورا
اگر کریں گے تقاضہ رسول کا
آخر
میں‘ میں انہیں کے شعر کو بطور مبارکباد پیش کر کے رخصت ہو رہا ہوں   ؎؎؎
خوشدلؔ
تو خوش نصیب ہے صدقے میں نعت کے
ہر  گام
پہ   نبی  کا
تجھے  نقشِِ پا   ملا

OOOO