فکر جہاں کی چھوڑ کر مولا مولا بول لازم ہے انسان پر مولا مولا بول

محمدصدیق عالمؔ (پٹنہ)

فکر جہاں کی چھوڑ کر مولا مولا بول
لازم ہے انسان پر مولا مولا بول

آیت آیت روشنی ہوتی ہے محسوس
قرآں کی ہر بات پر مولا مولا بول

تیری ساری مشکلیں ہوجائیں آسان
جب جائے تو کام پر مولا مولا بول

لمحہ لمحہ زیست کا ہوجائے مسرور
خوشیوں کی بوچھار پر مولا مولا بول

بکھری بکھری زیست پر نازل ہو تسکین
غم کی ہر اک تال پر مولا مولا بول

عالمؔ دل کے وسوسے ہوجائیں معدوم
جیون کے ہر موڑ پر مولا مولا بول