قادر تو تقدیر پر جگ کا پالنہار بل ہے تیری ذات میں ہم نربل لاچار

پروفیسر ڈاکٹرطاہرسعیدہارون (لاہور)

قادر تو تقدیر پر جگ کا پالنہار
بل ہے تیری ذات میں ہم نربل لاچار

مانگو اس دربار سے جو دیتا ہے خیر
رحمت کی بوچھار سے دھو دیتا ہے بیر

اللہ تیرے نام سے کرتا ہوں آغاز
تو ہے جوتی نین کی تو ہے من کا ساز

گھائل ہر دے پاپ سے چرکے دے سنسار
رکھ دے مرہم گھائو پر میرے بخشنہار

مولا پالنہار تو بخشش تیری عام
کھانے کو انگور دے دیوے میٹھے آم

مولا تو سنسار کا سب کی کرے سہائے
جو کچھ لکھا بھاگ میں گھر بیٹھے مل جائے

بخشش کے سو رنگ ہیں تیرے کام انوپ
ہر دے کو سکھ چین دے تری دیا کا روپ