قدیم حمدیہ شاعر ی میں شعر ی محاسن

قدیم حمدیہ شاعر ی میں شعر ی محاسن

ڈاکٹرسیدیحییٰ نشیط  ’’کاشانہ‘‘ پوسٹ کل گاؤں !۴۴۵۲۰۳، ضلع ایوت محل(مہاراشٹر

 ’’حمد ثنائے  جمیل ہے ‘‘ اس ذات محمود کی جو خالق سماوات و الارض ہے۔ جس کی کارفرمائی کے  ہر گوشے میں رحمت و فیضان کا ظولر اور حسن و کمال کا نور ہے۔ پس اس مبدء فیض کی خوبی و کمال اور اس کی بخشش و فیضان کے اعتراف میں جو بھی تحمیدی و تمجیدی نغمے گائے جائیں گے ان سب کا شمار حمد میں ہو گا۔ حمد دراصل خدا کے اوصاف حمیدہ اور اسمائے حسنیٰ کی تعریف ہے۔
عربی، فارسی کی طرح اردو شاعر ی میں بھی خدا کی حمد رقم کئے  جانے کی روایت رہی ہے۔ اردو شعرا نے اپنی عقیدت و ایمان کے گل ہائے معطر حمدیہ اشعار کی لڑیوں میں پرو کر باری تعالیٰ کے اوصاف حمیدہ اور اسمائے حسنیٰ کے گیسو ہائے معتبر سجائے ہیں۔ خدائے عزوجل کی تحمید و تمجید کے یہ نقش ہائے دل پذیر اور ثنا و توصیف کے یہ دریائے بے نظیر شعر ی پیکر میں ڈھل کر ادبی سرمائے میں اضافہ کرتے رہے ہیں۔ دیگر اصنافِ سخن کے ساتھ ساتھ حمدیہ شاعر ی کے سلسلے میں بھی اردو شعرا نے ایرانی شعرا کے اس قبیل کے  نمونوں کو اپنے سامنے رکھا۔ لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ ان کے خلاق تخیل نے دیگر اصناف کی طرح اس صنف میں بھی اپنے  ہی دلی جذبات کی اپنے مخصوص انداز میں ترجمانی کی ہے، بلکہ جا بجا ایرانی مذہبی روایات سے ہٹ کر بھی کچھ باتیں لکھی ہیں۔
اردو شاعر ی کا باقاعدہ آغاز پندرہویں صدی عیسوی کے اوائل ہی سے ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ۱۴۲۱ء اور ۱۴۳۴ء کے  درمیان لکھی گئی فخرالدین نظامی بیدری کی تصنیف ’’کدم راؤ پدم راؤ‘‘ کو حالیہ تحقیق کے  مطابق اردو کی پہلی مصدقہ قدیم ترین مستقل تصنیف تسلیم کیا گیا ہے  اور یہی اردو کی اولین مثنوی ہے۔ مثنوی کے عناصر ترکیبی میں حمد و نعت و منقبت کا شمار ہوتا ہے۔ نظامی نے اپنی مثنوی میں اس کا التزام کیا ہے  اور اللہ تعالیٰ کی حمد عقیدت میں ڈوب کر کی ہے۔ شاعر نے جگہ جگہ قرآنی آیات کو منظوم کیا ہے جس سے اس کی قرآن فہمی کا بھی پتہ چلتا ہے :
گسائیں  تہیں  ایک دنہ جگ ادار
بروبر دنہ جگ تہیں  دینہار
اکاش انچہ پاتال دھرتی تہیں
جااں  کچہ نکوئی، تایں  ہے  تہیں
کرے  آگلا تجہ کریں  سیو کوے
کہ جب نہ کرے  سیوتجہ کم نہوے
سپت سمند پانی جو مس کر بھریں
قلم رک رک پان پتر کریں
جمارے  لکھیں  سب فرشتے  کہ جے
نہ پورن لکھن تد توحید تے
نظامی ان اشعار میں کہہ رہا ہے کہ اے خدا اس کائنات میںسہارا صرف تیری ایک ہی ذات ہے، دوسری کوئی ہستی نہیں تو ہی آسمان، تو ہی پاتال(تحت الثریٰ) اور تو ہی زمین بھی ہے۔ جہاںکوئی نہ ہو وہاں  بھی تو رہتا ہے۔ اس کائنات میں ہر کوئی تیری سیوا(حمد) کرتا ہے۔ مگر تو بڑا غیور اور مستغنی ہے کہ کسی کے  حمد نہ کرنے سے بھی تیری تعریف میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ ساتوں سمندر کی سیاہی اور سارے نباتات کے قلم بنا لیے جائیں اور تمام فرشتے تیری قدرت کاملہ کو تحریر میں لانا چاہیں تو بھی وہ ایسا کر نہیں سکتے۔ یہاں  آخری دو شعروں میں سورۃ لقمان کی آیت ’’ولوان مافی الارض من شجرۃ اقلام والبحریمدہ من بعدہ سبعۃ ابحرٍ مانفدت کلمت اللہ‘‘ (آیت: ۲۷) کو شاعر نے منظوم کر دیا ہے۔
جس طرح قرآنی آیات کو یا ان کے ترجمے کو حمدیہ شاعر ی میں سجانے کے جتن کئے گئے ہیں اسی طرح حمدیہ شاعر ی میں شعریت کو برقرار رکھنے  کے لیے صنائع لفظی و معنوی کا استعمال بھی بدرجۂ اولیٰ کیا گیا ہے۔ حمد جیسے نازک موضوع میں بھی شعر ائے اردو نے تخیلات کے  ایسے روح پرور جہاں آباد کئے  ہیں کہ ان کا مشاہدہ بھی قاری کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ ’’آیات اللہ‘‘ کی منظر کشی میں حسن شعر ی کے  تمام رنگوں کو نہایت چابکدستی سے برتا گیا ہے۔ اردو حمد یہ شاعر ی کے ایسے اشعار محاکاتی شاعر ی کا عمدہ نمونہ قرار پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آیات فی السماء کا نظارہ تو سبھی کرتے ہیں کہ یہ نشانیاں خالق اکبر کی قدرت عظیم کی گواہی دیتی ہیں۔ لیکن ایمان و عقیدت کی اس نظر میں اگر شعریت کا سرمہ بھی شامل ہو جائے تو پھر ان نظروں سے دیکھے گئے نظاروں میں اور بھی حسن نکھر آتا ہے۔ دیکھئے شاعر اللہ کی کائنات کا مشاہدہ کس انداز سے کرتا ہے۔ صنعت تجسیم (Personification) کی یہ مثال بہتر دلکش اور نادر ہے : کیا دیس مل باپ نس مائی جن
ہوا پونگڑا چاند نرمل رتن
گنوارے  گگن باہ کرتس جھلا
پکڑڈوری کہکش سوتس کوہلا
پڑیا رو وتا آنجھواں  ڈال کر
پڑے  بوند بوند ہو ستارے  بکھر
(عبدلؔ:ابراہیم نامہ،مرتبہ مسعود حسن خان:علی گڑھ  ۱۹۶۹ء، ص:۱)
شاعر اللہ کی ثنا و توصیف کرتے  ہوئے کہہ رہا ہے کہ دن (باپ) اور رات (ماں) کے اختلاط سے  چاند (پونگڑا =لڑکا) ہوا۔ جسے آسمان کے گو ارے میں جھولا جھلانے کے لیے کہکشا ں کی ڈوری لگی ہے۔ جب چاند رونے لگتا ہے تو ستاروں کی صورت میں اس کے آنسو گرتے ہیں۔
عبدلؔ نے اپنے  حمدیہ اشعار میں گردش لیل ونہار کا عمیق جائزہ لیا ہے۔ دن رات کے بدلتے  کوائف میں اس نے قدرت الٰہیہ کی جھلک دیکھی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عبدلؔ اللہ کی ذات میں ناکہ  اس کی کائنات میں غور و فکر کرنے کا عادی تھا۔ کائنات کے مشاہدات کی شعر ی صورت گری لیے اس نے  استعاراتی زبان کی فنکارانہ انداز می  استعمال کیا ہے۔ بھونڈی اور غیر دلچسپ تشبیہا ت سے اس نے اکثر گریز کیا ہے۔ اوپر کی مثال میں چاند، دن،ر ات اور کہکشا ں و ستاروں کے تعلق سے ہم دیکھ چکے ہیں کہ صنعت تجسیم کا اس نے کتنی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ ایک جگہ اس نے چاند کو دوات، چاندنی کو سیاہی، ستاروں کو حروف اور کہکشاں کو قلم سے تشبیہہ دی ہے۔
عبدل نے اپنے حمدیہ اشعار میں قرآنی آیات سے بھی استنباط کیا ہے۔ چنانچہ سورہ لقمان کی آیت ’’الم تران اللہ یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل وسخرالشمس والقمر کل یجری الیٰ اجل مسمی‘‘ (آیت:۲۹) کی توضیح بڑے موثر انداز میں کی گئی ہے۔ جو ذوق سلیم اور ذہن و قلب کو اپیل کرتی ہے :
دھریا رات پردا دیوا دیس لائے
بھریا گنج قدرت پٹارا پھر آئے
پکڑ رات دن ہاتھ دونوں  پھرائے
سرج چاند کانسے  امرت بس ملائے
کدھیں  چاند کانسے  تھے  بس نس جھڑے
سو اس پیوکر سب جگت تو مرے
سو اس پیوکر سب جگت تو مرے
موا دور عالم سو پھر کر جیوے
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے رات کے  پردے سے دن نکالتا ہے۔ دن اور رات کو اپنے دست قدرت سے گردش کراتا ہے۔ چاند کے پیالے میں سے رات کا زہر جھلکتا ہے، اسے  پی کر تمام عالم مر جاتا ہے یعنی نیند کی آغوش میں چلا جاتا ہے اور سورج کے پیالے سے چھلکے ہوئے امرت کو پی کر وہ پھر جی اٹھتا ہے۔ نیند و بیداری کے لیے موت و حیات کا استعارہ اور پھر حیات بعد الموت کا اسلامی تصور کس خوبی سے  شاعر نے ان اشعار میں پیش کیا ہے آخری شعر میں ’النوم اخت الموت‘‘ والی حدیث کی طرف اشارہ ہے  اور سورہ النمل آیت ۸۶،جعلنا الیل لیسکنوافیہ والنھار مبصرا (یعنی رات ان کے  لیے  سکون حاصل کرنے کی بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا) کی تشریح بھی ان مذکورہ اشعار میں کی گئی ہے۔
گجرات کے مشہو ر صوفی شاعر خوب محمد چشتی (م۱۰۲۳ھ، ۱۶۱۴ء) نے اپنی تصانیف میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے اشعار میں تصوف و فلسفہ کی آمیزش نہایت خوبی سے کی ہے۔ ان کی حمدوں اور روحانیت اور علمیت یکجا ہو گئے  ہیں۔ البتہ روحانیت کی علمی پیچیدگیوں کی وضاحت کر کے انھیں آسان اور قریب الفہم بنانے کے جتن کئے گئے ہیں۔ خوب محمد چشتی کی ’’خوب ترنگ‘‘ نہایت مشہور کتاب ہے۔ یہ اگر چہ ادق مسائل پر مشتمل ہے لیکن شاعر نے مثالوں کے ذریعہ اسے آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے  موضوع میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت ’’لطیف‘‘ کو بڑے موثر انداز میں سمجھایا ہے۔ قرآنی آیت ان اللہ لطیفٌ خببر کی توضیح ذیل کے اشعار میں ملاحظہ ہو:
بھری طشت میں  ماٹی جب
دوجی ماٹی مائے  نہ تب
پانی جب ریڑو اوس مانہ
پچھیں  سماوی پانیں  تانہ
جس بائیں  پانی سوس جائے
پانی منہ ہو باد سمائے
پچھیں  سماوے  آگ بسیکہ
پانی آگ تتا کر دیکہ
جے  کو ہو وی بتج لطیف
مائی لطیف سو مانجہ کشیف
خدا لطیف سو جس کا نانوں
ا ہے  محیط سو وے  ہر ٹھانوں
(خوب محمد   چشتی، خوب ترنگ، مطبع نورانی، پیران پٹن، ص:۱۴۰)
یعنی مٹی سے بھرے طشت میں دوسری مٹی سما نہیں سکتی۔ لیکن پانی اس مٹی میں جذب ہو جاتا ہے اور مٹی میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ پانی کے ساتھ ہوا بھی اس مٹی میں داخل ہو جاتی ہے۔ اگر طشت گرم کر لیا جائے  تو آگ بھی اس مٹی میں داخل ہو جائے گی۔ اس طرح کیفی شئے میں لطیف شئے سما جاتی ہے۔ خدا چونکہ ’’لطیف‘‘ہے  اس لیے وہ ہر چیز پر محیط ہے۔
عربی ادب میں ایک قول ’’لاتتحرک ذرۃ الاباذن اللہ‘‘ (یعنی کوئی ذرہ حکم خداوندی کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا) بہت معروف ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے فاعل حقیقی اور قادر مطلق ہونے کی شہات دیتا ہے۔ قرآن میں کہاگیا ہے ’’ومارمیت ولکن اللہ رمیٰ وماتشاؤن الا ان یشاء‘‘ خوب محمد چشتی نے اللہ تعالیٰ کے فاعل مطلق ہونے کی وضاحت ذیل کے اشعار میں فنی محاسن کے ساتھ کی ہے۔ صنعت تشبیہ کانہایت چست استعمال ان اشعار میں ملاحظہ کیجئے  جس کی وجہ سے  ایک ادق موضوع آسان ہو گیا ہے
عالم جیوں  شطرنج کا کھیل
بازی مات کرے  اس میل
اک پیادہ اک شاہ سوکیں
الکی چال سبھوں  کوں  دیں
فرزی گھوڑا پیل چلائے
رخ پیادہ چل شہ کہہ جائے
فعل حقیقی کرے  خداج
جگ منہ سکے  نہ کر ہم باج
درج بالا اشعار میں خوب محمد چشتی کی علمیت کے ساتھ حضوری کا جذبہ اور اللہ تعالیٰ سے رکھی جانے  والی والا نہ عقیدت کا اظہار ہو رہا ہے۔ شاعر نے  ’’عالم جیوں شطرنج کا کھیل‘‘ کہہ کر بندوں کی مجبوری اور خدا کی مختاری کو بحسن و خوبی بیان کر دیا ہے۔ اس پر طرفہ حسن شعر ی کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
قدیم اردو کے حمد نگار شعرا نے صنعتوں کا خاص التزام کر کے اپنے حمدیہ اشعار کو خوبصورت پیکر عطا کئے ہیں، لیکن بعض ایسے شعرا بھی پائے جاتے ہیں جن کے  یہاں صنعتوں کا استعمال تو ہوا ہے لیکن ان میں آمد ہی آمد ہے آورد کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ فرط عقیدت میں شاعر نے ایک شعر کہہ دیا لیکن جب اس میں شعر ی حسن تلاش کیا گیا تو صنعات لغوی و معنوی سے وہ معمور نظر آیا۔ شاہ برہان الدین جانم کے حمدیہ اشعار میں اکثر جگہوں پر ہمیں تجنیس ’’سیاق الاعداد‘‘ کا استعمال نظر آتا ہے۔ مثلاً:
دو ہوں  جگ سمریں  اللہ ایک نام
کہ مخلص و عابد جپی ہیں  مدام
اللہ واحد سر جن ہار
دو جگ رچنا رچی اپار
شعر میں  اعداد کے  بالالتزام لانے کو ’’سیاق الاعداد‘‘ کہتے  ہیں۔ اللہ وحدہ کی صفت بیانی میں  شاعر نے  اس تجنیس کا برملا استعمال کیا ہے  اور شعر میں خوبی پیدا کی ہے۔ ایک حمدیہ شعر میں  ’’تجنیس ترصیع‘‘ کا بہترین انداز میں استعمال ہوا ہے :
وہی اسم قاضی ہے  حاجات ہے
وہی اسم رافع ہے  درجات ہے
   شعر کے دونوں مصرعوں کے الفاظ ہم وزن ہیں۔ شاعر جہاں ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے اسے  ’’ترصیع‘‘ کہتے ہیں۔ ملا وجیظ کی تخلیقات میں اس صنعت کی وافر مثالیں مل جاتی ہیں، بلکہ بعض اشعار تو متواتر اسی صنعت میں  مل جاتے  ہیں :
توں  اول توں  آخر توں  قادر ا ہے
توں  مالک توں  باطن توں  ظاہر ا ہے
 بعض قادر الکلام شعرا کےیہا ں تو ایک ہی شعر میں کئی صنعات برتی گئی ہیں۔ تجنیس زائد، ایاتم تناسب اور صنعت تضاد کا ایک ساتھ استعمال غواصیؔ کے اس شعر میں ملاحظہ کیجئے :
حمد وفا کے  کروں  اس پر جواہر نثار
جس سے  ہویدا ہوئے  نار و نورو نور و نار
ابن نشاطی  کا ’’پھول بن‘‘ تو صنعات لفظی و معنوی کا بیش با خزانہ ہے۔
نصرتی دکن کا قادر الکلام شاعر ہے ’’گلشن عشق‘‘ اور ’’علی نامہ‘‘ اس کی دو مثنویاں ہیں۔ پہلی مثنوی عشقیہ داستان ہے تو دوسری میں رزمیہ واقعات قلمبند ہوئے ہیں۔ شاعر نے دونوں مثنویوں کے نفس مضمون کا خیال رکھتے ہوئے حمدیہ اشعار میں الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ’’گلشن عشق‘‘ کے حمدیہ اشعار میں نرمی، نازکی اور شیفتگی پائی جاتی ہے جبکہ ’’علی نامہ‘‘ میں صلابت و سختی نمایاں ہے۔ شاعر کے تیور دونوں جگہ الگ الگ نوعیت کے نظر آتے ہیں۔ ایک جگہ عشق کی کیفیات دل میں گدگدی پیدا کرتی ہے تو دوسری جگہ جنگی واقعات دل کی دھڑکن کو بڑھا دیتے  ہیں اور ان ہی انسانی جذبات کے سایے شاعر نے حمدیہ اشعار قلمبند کئے  ہیں۔
جہاں تک دکنی حکمرانوں کی حمدیہ شاعر ی کا تعلق ہے تو ان کا کلام خود ان کے اذہان و طبائع کو منکشف کرتا ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کے حمدیہ اشعار میں اللہ کی بڑائی کے آگے بندے کا عجز نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ بندۂ عاجز بن کر بارگاہ الٰہی میں ثنا و توصیف کے گلہائے معطر پیش کرتے ہیں تو نہایت انکساری کے ساتھ اپنی حاجت روائی کے لیے دست سوال دراز بھی کرتے ہیں۔ ان کی حمدوں میں رقت اور تضرع کی کیفیت پائی جاتی ہے اور محاسن شعر ی کا جا بجا استعمال بھی:
چندر سور تیرے  نور تھے، نس دن کوں  نورانی کیا
تیری صفت کن کر سکے، تو آپی میرا ہے  جیا
تج نام مج آرام ہے، مج جیو سو تج کام ہے
سب جگ توں  تجہ سوں  کام ہے  تج نام جب مالا ہوا
شعر ی حسن کو بڑھانے کے لیے قلی قطب شاہ معانیؔ نے صنائع لفظی و معنی کا بہت زیادہ استعمال کیا ہے۔ صنعت ردالعجز کا استعمال دیکھئے  شاعر نے کس خوبصورتی سے کیا ہے :
کیا موجود اپنے  جمود تھے  منج جان غم خوار کوں
دیا ہے  جوت اپنے  نور تھے، مو طبع انوار کوں
 ’’نورس‘‘ کا منصف ابراہیم عادل شاہ ثانی اپنی ہندی روایات میں ہی مگن رہا البتہ اس کے پوتے  علی عادل شاہ ثانی شاہیؔ کے کلیات میں ہمیں ایک حمدیہ غزل ملتی ہے اور اس کی مثنوی ’’خیبرنامہ‘‘ میں بھی حمدیہ اشعار مل جاتے ہیں ان میں شعر ی محاسن تو ملتے  ہیں لیکن موثر انداز میں اور فنکارانہ طریقہ پران کا استعمال دکھائی نہیں دیتا۔ عبداللہ قطب شاہ بھی محمد قلی قطب شاہ کی طرح صاحب دیوان حکمراں شاعر تھا۔ وجیؔا، غواصی اور ابن نشاطی جیسے طرز شعرا اس کے دربار سے وابستہ تھے۔ وہ خود بھی کہنہ مشق شاعر تھا۔ اس کے  دیوان میں حمد و نعت، مناقب، غزلیں، گیت اور راگ راگنیوں  والی نظمیں بھی ملتی ہیں۔ محمد قلی قطب شاہ کے دیوان کے بالمقابل عبداللہ قطب شاہ کا دیوان مختصر ہے۔ جہاں تک حمدیہ شاعر ی کا تعلق ہے تو شاہان دکن کی حمدیہ شاعر ی میں جتنی روانی قلی قطب شاہ کے یہاں پائی جاتی ہے ایسی اور کسی شاہ دکن کے  کلام میںنہیں پائی جاتی۔ الفاظ کی پچی کاری اور لے و آہنگ کے مطابق ان کے استعمال میں قلی قطب شاہ کے یہاں فنکارانہ انداز ملتا ہے۔ محاسن شعر ی کا لحاظ اس کےیہاں بدرجۂ اتم پایا جاتا ہے۔ روزمرہ اور ضرب الامثال کے استعمال میں بھی اسے  ید طولیٰ حاصل تھا۔
عبداللہ قطب شاہ کے زمانے میں لکھی گئی ’’پھول بن‘‘ (ابن نشاطی) دکنی میں اعلیٰ ادبی معیار کی آخری مثنوی ہے۔ اس کے بعد دکن میں ولیؔ کا شہر ہ ہو جاتاہے اردو شاعر ی کو نئی سمت عطا ہوتی ہے۔ نظامی سے ولیؔ تک کا دکنی ادب ایک علاحدہ پہچان رکھتا ہے اس لیے اس مضمون میں ولیؔ کے زمانے تک کی حمدیہ(دکنی) شاعر ی کا جائزہ لیا گیا ہے۔