قصیدہ بردہ کا منظوم اردو ترجمہ

قصیدہ بردہ کا منظوم اردو ترجمہ
مِرے مولیٰ! ہمیشہ ہو درود ان پر ، سلام ان پر​
تجھے جو سب سے پیارے ہیں ، تِری مخلوق میں بہتر​
یہ شب بھر نم نگاہوں سے ستارے گھورتے رہنا​
یہ تنہائی میں ان کا نام لینا اور کچھ کہنا​
یہ آنسو کیوں ہیں آنکھوں میں؟ یہ لب پر نغمہ کیسا ہے؟​
انھی کے نام کا ہر آں زباں پر کلمہ کیسا ہے؟​
سنا ہے ایسی کیفیت ہی راہِ عشق و الفت ہے​
کسی کی سوچ میں مشغول رہنا ہی محبت ہے​
محبت دل سے ساری لذتوں کو توڑ دیتی ہے​
محبت دوریوں میں بھی دلوں کو جوڑ دیتی ہے​
محبت ہو تو پھر درد و علالت کی نہیں پروا​
محبت کرنے والوں کو ملامت کی نہیں پروا​
خدا کے دین سے کچھ لوگ ناتا توڑ بیٹھے ہیں​
نبی برحق کے بابرکت طریقے چھوڑ بیٹھے ہیں​
محمد(ﷺ) کون تھے؟ سن لو وہ سب سے عمدہ انساں تھے​
ہمارے پیارے پیغمبر تھے ، امت پر مہرباں تھے​
بوقتِ شب نبی خود کو تہجد میں جگاتے تھے​
عبادت کرتے کرتے پاؤں ان کے سوج جاتے تھے​
بنایا تھا انھیں اللہ نے کل عالم کا پیغمبر​
عرب کے بھی وہی سرور ، عجم کے بھی وہی رہبر​
جھکے رہتے تھے اس سردار کے چلتے ہوئے کاندھے​
انھوں نے بھوک کی شدت میں پتھر پیٹ پر باندھے​
نکالا اس جہاں میں انس و جن کو ہر مصیبت سے​
قیامت میں بھی کام آئیں گے وہ اپنی شفاعت سے​
خدا کی جانب امت کو بلایا ہے محمد{ﷺ}نے​
جو دشمن تھے انھیں باہم ملایا ہے محمد{ﷺ}نے​
نہیں ہے کوئی ان جیسا نہ سیرت میں ، نہ صورت میں​
نہیں ان کے برابر کوئی بھی علم اور سخاوت میں​
یہ ناداں لوگ کیا جانیں محمد{ﷺ}کی شرافت کو​
ہمیں اللہ بتائے گا مقام ان کا قیامت کو​
ہمیں بس علم ہے اتنا کہ وہ انسانِ کامل ہیں​
وہ سب مخلوق سے افضل ہیں ، ہر خوبی کے حامل ہیں​
محمدمصطفی{ﷺ} دنیا میں جب تشریف لے آئے​
دلوں کی سرزمیں پر رُشْد کے بادل چلے آئے​
بس اب زائل ہوا باطل ، ہدایت پھیلنے آئی​
جہاں بھر میں محمد{ﷺ} کی قیادت پھیلنے آئی​
نظامِ کائنات اب منتظر تھا اُن کے آنے کا​
چمن کا پتا پتا مضطرب تھا ان کو پانے کا​
جمالِ یوسفی ، توحیدِ ابراہیم کا مظہر​
دمِ عیسیٰ ، کلامِ موسوی ہونے کو تھا اظہر​
چمن میں بلبلِ توحید جوں ہی آیا لہرا کے​
گرے اس دم ہی چودہ کنگرے ایوانِ کسریٰ کے​
ہدایت کی چلی بادِ صبا اور کھِل اٹھا گلشن​
کہ جلتی آگ فارس کی اسی دم بجھ گئی فوراً​
اٹھا انسانیت کے دل میں دینِ حق کا انگارہ​
وہاں دریائے ساوہ خشک بالکل ہوگیا سارا​
نبی کو دے کے بھیجے تھے ہزاروں معْجزے رب نے​
مسلماں ہو کہ کافر ہو ، کیے محسوس وہ سب نے​
یہ قرآن اور پھر اس کی فصاحت اور بلاغت کا​
ہے قائل ہر کوئی بالاتفاق اس کی حلاوت کا​
ہوا ہو ، آگ ہو ، پانی ہو ، مٹی ہو ، ہراک عنصر​
نبی کے معجزے ظاہر ہوئے ان میں سے ہر اک پر​
ہوائیں غزوۂ خندق میں جب کفار پر چھائیں​
تو اُلٹی ہانڈیاں ، خیمے سب اکھڑے ، آندھیاں آئیں​
مسلسل آگ پر پانی اگرچہ گھٹتا رہتا ہے​
مگر جابرؓ کے گھر دعوت میں سالن بٹتا رہتا ہے​
وضو کے واسطے کافی ہوا لشکر کو اک لوٹا​
حدیبیّہ میں ان کی انگلیوں سے چشمہ جب پھوٹا​
بُنا مکڑی نے جالا اور خود چل کر شجر آیا​
زوالِ قحْط اور شقُّ القمر اور ابْر کا سایہ ​
وہ اعلیٰ معجزہ بھی ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے​
نبی کے قصۂ معراج سے دل شاد رکھیں گے​
کیا جانے لگا پورا محمد{ﷺ}کا دلی ارماں​
خدا کی بارگہ سے ہوگیا جبریل کو فرماں​
اے جبرائیل! لے جاؤ براق ، ان کو یہاں لاؤ​
ٹھہر جاؤ اے سورج! ، چاند ، تارو! آج رک جاؤ​
زمین و آسماں حیراں ہیں دونوں ، آج یہ کیا ہے؟​
جسے ’’اَسْرٰی‘‘ کہا قرآن میں ، معراج یہ کیا ہے؟​
ابھی تو اپنے لوگوں کی بھی تکلیفیں یہ سہتے تھے​
انھیں مجنون و ساحر وہ علی الاعلان کہتے تھے​
ابھی تو ٹوٹتا رہتا مصائب کا پہاڑ ان پر​
ابھی تو ان پہ پھینکے جارہے تھے ظلم کے پتھر​
فرشتہ وحی و قرآں لے کر اب تک بار بار آیا​
اب اللہ نے براہِ راست اپنے پاس بلوایا​
خدا کے حکم سے ابرِ منور شام پر برسا​
سواری جارہی ہے اب نبی کی مسجدِ اقصیٰ​
زمیں ساری مقدس اب سراج الاتقیاء نے کی​
امامت آج نبیوں کی امام الانبیاء نے کی​
ترقی یافتہ کیسا عظیم الشاں بشر ہے یہ​
زمیں سے عرش تک انسانِ کامل کا سفر ہے یہ​
کہا جبریل نے بس اب میں آگے بڑھ نہیں سکتا​
مِرا نورانی پاؤں یاں سے آگے چڑھ نہیں سکتا​
سلام اے وہ کہ اترا جس پہ ’’سُبْحٰنَ الذی أَسْرٰی‘‘​
سلام اے جس کے فاقوں پر نچھاور قیصر و کسریٰ ​
سلام اے ہادیِ خلقت! ، سلام اے داعیِ عالَم!​
سلام اے شافعِ محشر! ، سلام اے محسنِ اعظم!​
سلام اے فاتحِ عالَم! ، سلام اے رحمتِ عالَم!​
سلام اے باعثِ عالَم! ، سلام اے عظمتِ عالَم!​
سلام اے وہ جو دامادِ ابوبکر و عمر بھی ہے!​
سلام اے وہ جو عثماں اور حیدر کا سسر بھی ہے!​
سلام اے جس کی امت بہتریں سب امتوں سے ہے!​
مزین جس کی امت انبیا کی دعوتوں سے ہے!​
سلام اے صاحبِ بدر و احُد! ، اے صاحبِ احزاب!​
سلام اے ہجرت و نصرت کے حامل جس کے تھے اصحاب!​
سلام اے صاحبِ کوثر! ، سلام اے صاحبِ اِسرا!​
سلام اے جس کی غربت پر ہے قرباں شاہیِ کسریٰ!​
نچھاور کر رہا ہے قلب و جاں اپنا ، غلام ان پر ​
بلاتعداد ہوں یارب! درود ان پر ، سلام ان پر​
قصیدہ بردہ کے انداز میں یہ نعت ہے حاضر​
اگرچہ دل کی باتیں سَرسَرؔی نا کرسکا باہر​