لامی ابرِ فلک کیوں نہ اشک بار رہے – مرزا دبیر (سلام)

سلامی ابرِ فلک کیوں نہ اشک بار رہے
غمِ حسین میں جب برق بے قرار رہے

لکھا تھا یہ قلمِ موج نے میانِ فرات
کہ پیاسا نہر میں عباسِ نامدار رہے

عزیزو چرخِ چہارم پہ ہے علی کی شبیہ
کہ تا ملائکہ کو ہجر میں قرار رہے

اٹھا کے لے گئے لاشِ حسین واں قدسی
کہ یہ بھی واقعہ تا حشر یادگار رہے

بہ زیرِ خاک نہ جب تک کہ وہ ہوا مدفوں
حسین لاشۂ اصغر سے ہم کنار رہے

شگفتہ دیکھ کے زخموں کو کہتے تھے شہدا
یہ وہ چمن ہے کہ جس پر سدا بہار رہے

ہزار حیف کہ جو ہو ابوتراب کا لال
زمین پر وہی بے غسل و بے مزار رہے

(قطعہ)

کہا حسین سے یہ خواب میں سکینہ نے
کہ چُھٹ کے آپ سے ہم سخت بے قرار رہے

طمانچہ شمر نے مارا گہر بھی چھین لیا
مدد نہ آپ نے کی ہم بہت پکار رہے

مریض بھائی کی منزل میں کچھ دوا نہ ہوئی
کہ پا میں آبلے اور آبلے میں خار رہے

تمہارے لال کا اب حال ہے یہ اے بابا
کہ جیسے قید میں کوئی گناہ گار رہے

(قطعہ)

کہا یہ بانو نے سجاد سے دمِ مدفن
یہ بات یاد مری اے جگر فگار رہے

اُدھر تو کیجیو اکبر کو اور اِدھر شہ کو
پر ان کے بیچ میں اصغر ہی کا مزار رہے

چلے اگرچہ رہِ خار چھوڑ کر عابد
قدم کے چومنے سے پر نہ باز خار رہے

اور اُس کے ہاتھ پہ بیعت بھی ہتکڑی نے کی
اسیری میں بھی یہ سجاد کا وقار رہے

(قطعہ)

حسابِ گریۂ عابد بیان سے ہے زیادہ
کہ ایک جان پہ اندوہ بے شمار رہے

ملا پدر کو جو چالیس دن نہ غسل و کفن
سو اس قلق میں چہل سال اشک بار رہے

سکینہ جب تلک آئی نہ قید خانے سے
حسین گلشنِ جنت میں بے قرار رہے

ہوئے نہ دفن شہیدانِ کربلا جب تک
تمام مردے تہِ خاک بے قرار رہے

(قطعہ)

کہا حسین سے زینب نے کیجیے انصاف
نہ ماں نہ باپ نہ جدِ بزرگوار رہے

تم ایک بھائی ہو سو تم بھی مجھ کو چھوڑتے ہو
بہن کے دل کو بھلا خاک اب قرار رہے

دبیر ہے وہ عزا خانہ دل مرا جس میں
ہمیشہ تعزیۂ شاہِ نامدار رہے

(مرزا دبیر)​