لب پہ جب حرفِ امم جاگتاہے

لب پہ جب حرفِ امم جاگتاہے
مجھ میں اعجازِحرم جاگتاہے
رات سوئے گی حرامیںکیسے
اب تک آقاکا قدم جاگتاہے
قصرِ افکار ونوا ہے بے خواب
نعت لکھنے کو قلم جاگتاہے
لفظِ احمد سے معطر ہوئے
ہونٹ
ابھی خوشبوکا بھرم جاگتاہے
ایک اللہ کا گھر مکہ میں
اور طیبہ میں حرم جاگتاہے
نور وحدت کا طلب گارہے وہ
دل کے زنداں میں جوغم
جاگتاہے
دیکھ آیا درِاقدوس جب سے
میرے خوابوںمیں حرم جاگتاہے
نعتیں لکھتاہوں بصدشوق ظہیر
دل میں جب ان کا کرم
جاگتاہے

ظہیر غازیپوری