ماہیتوں کو روشن کرتا ہے نور تیرا ایمان ہیں مظاہر، ظاہر ظہور تیرا

خواجہ میر دردؔ دہلوی

ماہیتوں کو روشن کرتا ہے نور تیرا
ایمان ہیں مظاہر، ظاہر ظہور تیرا

یاں افتقار کا تو امکاں سبب ہوا
ہم ہوں نہ ہوں، ولے ہے ہونا ضرور تیرا

باہر نہ آسکی تو قیدِ خودی سے اپنی
اے عقلِ بے حقیقت دیکھا شعور تیرا

ہے جلوہ گاہ تیرا، کیا غیب کیا شہادت
یاں ہے شہود تیرا، واں ہے حضور تیرا

جھکتا نہیں ہمارا دل تو کسو طرف یاں
جی میں سما رہا ہے از بس غرور تیرا

اے درد منبسط ہے، ہر سو کمال اس کا
نقصان گر تو دیکھے، تو ہے قصور تیرا