مجھے حمد و ثنا کافی ہے رب کی تمنا کیوں کروں بزم طرب کی

شاہد کربؔ (کراچی)

مجھے حمد و ثنا کافی ہے رب کی
تمنا کیوں کروں بزم طرب کی

مرے مولا! مجھے شاکر بنادے
نہیں ہے انتہا کوئی طلب کی

ترا ہی نام بس وردِ زباں ہو
یہی مصروفیت ہو روز و شب کی

چراغ مصطفیؐ یا رب بچانا
چلی ہے پھر سے آندھی بولہب کی

جو لایا ابرہہ ہاتھی کا لشکر
پرندوں سے مدد تو نے عجب کی

عبث ہے شمع سورج کو دکھانا
’’کہاں بندے، کہاں توصیف رب کی‘‘

ہدایت مانگتا ہے کربؔ یارب
طلب کرتا ہے تجھ سے خیر سب کی