محبتوں کا صلہ بے مثال رکھتا ہے وہ میرا مجھ سے زیادہ خیال رکھتا ہے

شبیرآصف

محبتوں کا صلہ بے مثال رکھتا ہے
وہ میرا مجھ سے زیادہ خیال رکھتا ہے

گو میرے حیطۂ ادراک میں نہیں آتا
مگر وہ دل سے تعلق بحال رکھتا ہے

میں سرد و گرم زمانے جھیل لیتا ہوں
وہ موسموں کو مرے حسب حال رکھتا ہے

نظام عالم امکاں سے آگہی کے لئے
وہ طرح نو میں بنائے زوال رکھتا ہے

شکست حربۂ بوجہل و بولہب کے لئے
وہ شہر سنگ میں آئینہ ڈھال رکھتا ہے

شعور حرف سخن سے نواز کر مجھ کو
وہ میرا طرز تکلم بحال رکھتا ہے