محمد فرحت حسین خوشدل سے ادبی مکالمہ

 محمد
فرحت حسین خوشدل سے ادبی مکالمہ

مصاحبہ
گو: غلام ربانی فدا

فدا:  آپ ایک علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے
ہیں۔ اختصار کے ساتھ اس کا پسِ منظر بیان کیجیے۔
خوشدلؔ:  میرے داد مولوی محمد کامل برہ پورہ، بھاگلپور
اسکول میں ہیڈ مولوی تھے۔ اردو، فارسی، شعر و ادب کے ماہر تھے۔ بھاگلپور کے شہر کے
مشہور و معروف محلے میں برہ پورہ کو علمی و ادبی حیثیت سے آج بھی تسلیم کیا جاتا
ہے۔ میرے دادا مرحوم کے شاگردوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جنہوں نے اپنے زمانے میں
بڑا نام پیدا کیا۔ مولوی محمد کامل کے چار لڑکے ڈاکٹر محمد عمر عادل، محمد علی،
سید علی اور احمد علی تھے۔ میرے بڑے ابو ڈاکٹر محمد عمر عادل نے شہر کے نامور نعت
گو شعرا کی فہرست میں بڑا اونچا مقام حاصل کیا۔ میرے والد سید علی مرحوم اردو
فارسی پر جور رکھتے تھے۔ شاعری سے بہت دلچسپی تھی۔ علامہ اقبال کی شاعری کے شیدائی
تھے۔ شکوہ جواب شکوہ انہیں زبانی یاد تھا۔ مترنم اور بلند آواز میں اکثر علامہ
اقبال کے شعر گنگناتے۔ گھر کے ادبی ماحول اور دینی ماحول میں میری پرورش ہوئی۔
میری پیدائش
۵؍
جنوری
۱۹۵۸
؁ء میں ہوئی۔ بچپن ہی سے شعر و شاعری کا ماحول ملا۔ والدہ محترمہ سیدہ طاہرہ علی
نے میری پرورش و برداخت میں کافی اہم رول ادا کیا۔
فدا:  شعر گوئی کی ابتدا کب اور کس طرح ہوئی۔ مذہبی
خانوادے سے نسبت کے سبب آپ حمد و نعت گوئی کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ سب سے پہلی حمد
اور نعت کے مطلع و مقطع سے قارئین کو محظوظ فرمائیں۔
خوشدلؔ:
کاروانِ ادب کے نام سے میرے مجلے برہ پورہ میں ایک تنظیم تھی۔ ہر ماہ میں اس میں
نشست ہوا کرتی تھی۔
۱۹۷۵
؁ء میں پہلی غزل کہہ کر اس میں شامل ہوا۔ ہمارے استاد علامہ یونس احمد کی شاگردوں
کی ایک لمبی فہرست ہے۔ میں ان کا چہتا شاگرد رہا۔ غزل سے زیادہ حمد و نعت سے
وابستگی رہی۔ غزلوں کا ایک مجموعہ ’’وجدان کے پھول‘‘ شائع ہونے والا ہے۔ میری پہلی
حمد و نعت کے مطلع اور مقطع ملاحظہ فرمائیں
؎
توفیق
مجھے دے تو کہوں حمد مثالی
ہر
شئے میں تیری شان جھلکتی ہے نرالی
اے
قادرِ مطلق یہ مری تجھ سے دعا ہے
ہو
خاتمہ ایمان پہ خوشدل ہے سوالی
بعد
ثنائے رب معظم، نعت نبی کی جاری ہو پیہم
ذکرِ
نبی ہو لب پر ہر دم صلی اللہ علیہ وسلم
قرباں
خوشدل شاہِ امم پر، سب کی نظر ہے ان کے کرم پر
محسنِ
انسان ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم
فدا:  آپ کی شاعری پر کن اساتذہ نے گہرے اثرات مرتب
کیے ہیں؟
خوشدلؔ:
علامہ اقبال، سعدی، رومی، غالب، الطاف حسین حالی، امام احمد رضا بریلوی، امیر
مینائی، بیدم وارثی، علامہ ناوک حمزہ پوری، صبیح رحمانی، انور سدید وغیرہ۔
فدا:
کیا آپ ترنم کے ساتھ اپنا کلام سناتے ہیں؟
خوشدلؔ:
مَیں تحت میں اپنا کلام بہت کم سناتا ہوں۔ حمد و نعت تو ترنم میں ہی سناتا ہوں۔
اللہ رب العزت کا میں شکر گزار ہوں کہ مجھے دوسری تمام نعمتوں کے ساتھ مترنم اور
بلند آواز عطا فرمائی۔
فدا:
حمد نگاری کے مقابلے نعت گوئی کا فن آسان نہیں ہوتا۔ آپ کی اس ضمن میں کیا رائے
ہے؟
خوشدلؔ:
آپ کا یہ سوال بہت اہم ہے۔ میری رائے اس ضمن میں دوسرے فنکاروں اور نقادوں سے الگ
ہے۔ میرے نزدیک دونوں صنفِ اردو شاعری کی مقدس ترین صنف ہے۔ اور دونوں صنف میں طبع
آزمائی بھی ہے اور مشکل ترین بھی۔ شرط بس یہ ہے کہ ہمارے دل میں ذرا سی بھی کجی
نہ ہو نیز قرآن و احادیث صحیحہ کا مکمل مطالعہ اور اس پر عمل ہو۔ رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کو بعد از خدا بزرگ دل سے تسلیم کریں اور غُلو سے اپنا دامن پاک
رکھیں۔ اللہ کا مجھ پر بے شمار احسان ہے کہ نعت گوئی میرے لیے عزیز از جان بھی ہے
اور آسان بھی۔ میرے پیش نظر عرفی شیرازی کا یہ شعر ہمیشہ رہتا ہے   ؎
عرفی
مشتاب ایں رہ نعت است نہ صحر است
آہستہ
کہ رہ بردم تیغ است قدم را
میری
تازہ ترین نعت کے دو اشعار سنیے   ؎
جو
کہنا نعت تو قرآن کو پیش نظر رکھنا
مقام
مصطفی سے خود کو ہر دم با خبر رکھنا
ہو
زباں پر کلمۂ حق سدا، رہوں دور شرک سے میں خدا
ہے
دعائے خوشدل ہے نوا کہ ہو دل میں عظمتِ مصطفی
فدا:  آپ ملازمت میں کب آئے؟ با ضابطہ شرف تلمذ کس
سے حاصل ہے؟
خوشدلؔ:
ملازمت کا آغاز
۱۹۸۵
؁ء ہزار یباع کے سنٹ زیویرس اسکول سے ہوا۔
۱۹۸۸ ؁ء میں سنٹ
زیویرس اسکول سے استعفیٰ اس لیے دیا کہ اسی سال
۲ ضلع اسکول میں شعبۂ
اردو میں میرا اپوائنمنٹ ہوگیا۔ آج بھی درس و تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ ہوں۔
علامہ ناوک حمزہ پوری صاحب کو شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ عصر حاضر میں اردو شعر تادب
کے ہر صنف پر مہایرت رکھتے ہیں خصوصاً رباعی گوئی میں انہیں اردو دنیا مجتہد تسلیم
کرتی ہے اور میں انہیں اردو فارسی رباعی گوئی کا امام تسلیم کرتاہوں۔
فدا:
آپ اردو شاعری کے علاوہ تنقیدی مضامین بھی لکھتے ہیں۔ آپ کی اب تک کتنی کتابیں
منظر عام پر آچکی ہیں؟
خوشدلؔ:
اللہ کا احسان ہے کہ اردو میں ایم۔اے
۱۹۸۰ اور ۱۹۸۱ ؁ء میں فارسی میں
ایم۔اے کی سند اول درجہ میں حاصل کی۔
۱۹۸۰ سے ۲۰۰۶ ؁ء تک میں کتابوں
کے مطالعے میں غرق رہا۔ میرا پہلا مضمون جنوری
۲۰۰۷ ؁ء میں فنون کے
سالنامے میں شائع ہوا۔ اب تک
۵۹
طویل مضمون اور
۷۲
مختصر سوانحی مضمون لکھ بھی چکا ہوں اور تمام کے تمام مضامین ہند و پاک کے رسائل
میں شائع بھی ہوچکے ہیں۔ ’’ایوان نعت‘‘ کے نام کی تجویز راقم الحروف نے جناب سعید
رحمانی کے سامنے رکھی تھی یہ کتاب فروری دو ہزار دس میں شائع ہوچکی ہے۔ حمدیہ
مجموعہ ’’الحمد للہ‘‘ رمضان المبارک کے اختتام
۱۴۳۱ ؁ھ پر نعتیہ
مجموعہ ’’سمعنا و اطعنا‘‘ کے ساتھ شائع ہو چکا ہے۔ جس کی اسکینگ کروا کر آپ کی
خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ ہندوستانی سر زمین پر حمد و نعت
کا واحد خالص معیاری رسالہ ’’جہانِ نعت‘‘ شائع فرما رہے ہیں اور میری دونوں کتابوں
کی رسم اجرا ’’جہانِ نعت‘‘ کے ساتھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اللہ رب العزت سرور
دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اور طفیل میں آپ کی مساعی جمیلہ کو قبول
فرمائے۔ آپ مجھ جیسے ناتواں کو اپنے رسالہ کا مدیر بنانے اور مجھ پر گوشہ نکالنے
کا ارادہ رکھتے ہیں اللہ آپ کو جزائے خیر سے نوازے اور مجھ میں یہ حوصلہ دے کہ اس
ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دے سکوں۔
میری
نثری کتابیں اور غزلوں کا مجموعہ عنقریب ہی بفضل خداوندی شائع ہوگا۔ دعا کی
درخواست تمام قارئین سے کرتا ہوں۔ ’’جہانِ نعت‘‘ کو اللہ بقائے دوام عطا کرے اس کی
دعا کرتا ہوں۔ حمد و نعت کے وابستگان سے یہ التجا کرتا ہوں کہ اس رسالہ کو زندہ
اور پائند ہ بنانے میں محترمی غلام ربانی فدا، مدیر اعلیٰ ’’جہانِ نعت‘‘ کا عملی
اور علی تعاون فرمائیں۔
فدا:
جناب خوشدلؔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میری التجا کو قبول فرمایا۔
خوشدلؔ:
اللہ آپ کو بھی جزائے خیر سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ حمد و نعت کی توسیع اور فروغ
دینے میں آپ کے ساتھ میں مجھے بھی شامل رکھے۔ مَیں نے حمد و نعت اکیڈمی نئی دہلی
کے جنرل سیکریٹری ہزار حسین کرت پوری سے دلی میں یہ وعدہ
۶؍ اگست ۲۰۱۰ ؁ء میں کیا تھا
کہ اس اکیڈمی کی شاخ ہزاری باغ میں قائم کروں گا۔ الحمد للہ
۲۵؍ رمضان ۳۱  ؁ھ بمطابق ۵؍ ستمبر ۲۰۱۰ ؁ء میں اس کا
قیام عمل میں آچکا ہے۔ خاکسار کو اس اکیڈمی کا جنرل سکریٹری منتخب کیا گیا ہے۔
اللہ حافظ محمد فرحت حسین خوشدلؔکو سلامت رکھے۔ آمین
OOOO