مختلف زبانوں میں حمد باری تعالی

مختلف زبانوں میں حمد باری تعالی

بزرگ و برتر ذات اللہ تبارک و تعالی قادر مطلق ہے۔ وہ ہر شے پر

غالب ہے دنیاوی ہر مخلوق اور انسان اس کے آگے مجبور محض اور بے بس ہے۔ اسی سے انسان کے دل پر خشیت الٰہی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اور جب اس میں عقیدت بھی شامل ہوجاتی ہے تو اللہ کی عظمت و برتری اور اس کی بزرگی حمد و ثنا بن کر صفحۂ قرطاس پر مزین ہوجاتی ہے۔ آدم تا این دم یہ سلسلہ حمد گوئی ادبیات عالم میں موجود ہے۔ اللہ تعالی کی تعریف و توصیف کا یہ سلسلہ دور جہالت میں بھی عربی شاعری میں پایا جاتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے زید بن عمر و بن نفیل کا ایک شعر نقل فرمایا ہے۔
عبادک یظنون وانت رب یکفیک المنایا والحتوم
’’یعنی تو پر وردگار ہے سب لوگوں کا بادشاہ ہے۔ موتیں اور فیصلے تیرے ہی قبضہ میں ہیں۔‘‘
حضرت حسان بن ثابت ؓ (۵۴۰ء – ۶۶۰) جب مشرف بہ اسلام ہوئے تو انہوں نے رب کریم کی مدح و ثنا کرتے ہوئے شعر کہے ہیں:
وانذرنا نارا و بشرجنۃ
وعلمنا الاسلام وللہ الحمد
وانت الہ الخلق ربی و خالقی
بذلک ما عمرت فی الناس اشہد
یعنی ’’ہمیں جہنم سے ڈرایا، جنت کی بشارت دی، اسلام سکھایا۔ پس اللہ ہی ہے ہم جس کی حمد کرتے ہیں اور ساری مخلوق کا معبود میرا رب اور خالق ہے۔ ہم زندگی بھر اس کی شہادت دیتے رہیں گے۔
عربی اور فارسی زبان کی شاعری میں بھی حمدیہ نغمات موجود ہیں۔ قدیم شعرا میں فضل اللہ، ابو سعید ابوالخیر عراقیؔ سعد، رومی اور جامی جیسے نامور سخنوروں نے حمد و ثنا کے اشعار لکھے ہیں۔ ایک رباعی ابو سعید ابو الخیر (م ۵۴۰ھ؍۱۰۹۵ء) کی پیش ہے:
بر شکل بتاں رہزن عشاق حق است
لا بلکہ عیاں درہمہ آفاق حق است
چیزے کہ بود از روئے تقیّد جہاں
واللہ کہ ہماں درجہ اطلاق حق است
رومیؔ نے حمد باری تعالی میں جو اشعار کہے ہیں وہ ضرب المثل کا درجہ رکھتے ہیں:
خود ثنا گفتن زمن ترک ثنا ست
کیں دلیل ہستی و ہستی خطا ست
’’خدا کی ہستی کے سامنے ہماری ہستی ہی کیا ہے۔ رومیؔ کا یہ کہنا کس قدر معنی خیز ہے کہ اے خدا اگر میں تیری تعریف کرتا ہوں تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ میرا بھی وجود ہے۔ لیکن تیری ہستی کے سامنے میری ہستی کا تصور ہی غلط ہے۔ چنانچہ میں اگر تیری تعریف کرنے لگوں تو یہ بات بالکل ضد ہوجائے گی۔

ان کے دوسرے شعر میں ثبوت دیکھئے:
اے خدا از فضل تو حاجت روا

با تو یاد ہیچ کس نبود روا
’’اے خدا تیری یاد کے ساتھ کسی کی یاد کرنا جائز و مناسب نہیں۔ تیرے ہی فضل سے حاجت روائی ہوتی ہے ۔
تحفۃ الاحرار میں جامیؔ (م ۸۹۸ھ ؍۱۴۹۲ء) نے اللہ تبارک و تعالی کی حمد نہایت متاثر کن انداز میں اس طرح کی ہے:
حمد خدائیست کہ از فلک کن

بر ورق باد نویسد سخن

نطق و ستائش چہ تمناست این

عقل و تمناش چہ سوداست ایں
می دید ایں رشتہ و سبحہ نشان

صد گرہ افتادہ در و مہرہ ساں