مردہ دل کو مرے زندگی بخش دے چشم بے نور کو روشنی بخش دے

نسیم بستوی

مردہ دل کو مرے زندگی بخش دے
چشم بے نور کو روشنی بخش دے

تو ہے معبود میرا میں بندہ ترا
مجھ کو بھی جذبہ بندگی بخش دے

احکم الحاکمین! ارحم الراحمین!
غیر فانی ہو جو وہ خوشی بخش دے

تو گدا کو بھی چاہے تو اک آن میں
عظمت تاج شاہنشہی بخش دے

نحنُ اَقربُ کے جلوئوں میں ڈوبا رہوں
جام عرفاں کی وہ بے خودی بخش دے

فضل فرما! نسیم خطا کار پر
عشق احمدؐ کی وارفتگی بخش دے