مرے ہر لفظ کو وجدان کا انمول جوہر دے

مرے ہر لفظ کو وجدان کا انمول جوہر دے
جبینِ شعر کو مفہوم کا خوش رنگ جھومر دے
ہماری زندگی ہے درد کا تاریک آئینہ
مسرت بخش لمحوں کا اسے عکسِ منور دے
مسلسل حادثوں کی دھوپ میں زندہ رہوں کب تک
مرے سر پہ تحفظ کے گھنے سائے کی چادر دے
یہ تیرے بس میں ہے مجھ کو گرادے سب کی نظروں سے
اگر چاہے شرف دے کر جہاں میں معتبر کردے
کرم کی ایک ہلکی بوند ہی درکار ہے مجھ کو
کہاں میں چاہتا ہوں تو مجھے پورا سمندر دے
سعیدؔ اپنی تھکن کو اوڑھ کے سو جائے گا پھر بھی
تو فرشِ خاک پر اس کو فقط سبزے کی چادر دے

 سعید رحمانی

ایڈیٹر۔ادبی محاذکٹک اڑیسہ)