مظہرِ عشق باخدا ہو دل مصدرِ صدمۂ جفا ہو دل اس قدر عشق میں فنا ہوجائے

بھگونت رائے(راحت)

مظہرِ عشق باخدا ہو دل
مصدرِ صدمۂ جفا ہو دل

اس قدر عشق میں فنا ہوجائے
اپنے خالق کا آشنا ہوجائے

الغرض عشق ہو ترا یارب
اپنا سودائی تو بنا یارب

طاقتِ زورِ عشق دل پر دے
بے پر و بال ہوں مجھے پر دے

رات میں دن بھی یوں سماجائے
جس طرف دیکھوں تو نظر آئے

پی کے مے ساغر محبت سے
مست ہوجائوں جامِ وحدت سے

عاشقِ زار اب ترا ہوں میں
تیرے کوچے کا بس گدا ہوں میں

رائیگاں کر نہ میری محنت کو
ذوق دے اپنے غم سے راحت کو