معترف ہے خلق میں ہر آدمی اللہ کا فکر بھی اللہ کی ہے ذکر بھی اللہ کا

عارفؔ زیبائی (کراچی)

معترف ہے خلق میں ہر آدمی اللہ کا
فکر بھی اللہ کی ہے ذکر بھی اللہ کا

یاد رکھنا چاہئے آٹھوں پہر اللہ کو
نام لینا چاہئے ہی ہر وقت اللہ کا

جس نے کی اللہ کے بندوں کی خدمت خلق میں
ہوگیا محبوب بندہ بس وہی اللہ کا

پتی پتی کی زباں پہ کلمۂ توحید ہے
نام جپتی ہے چمن کی ہر کلی اللہ کا

اس کے چہرے پر ابھر آتا ہے اک رنگ حسیں
صدق دل سے نام لے جب بھی کوئی اللہ کا

منزل مقصود مل جانا کوئی مشکل نہیں
نام لے ہاں نام لے اے بے خودی اللہ کا

جب سے کی عارفؔ ہدایت اک ولی اللہ نے
ہے تصور میرے دل میں ہر گھڑی اللہ کا