مقامِ غزوۂ خندق (مدینہ منورہ) کی زیارت مقدسہ کے بعد

سنہری گردِ طیبہ
مقامِ غزوۂ خندق (مدینہ
منورہ) کی زیارت مقدسہ کے بعد
نظر میں گرچہ تمھاری سیرت
کے رُخ کئی ہیں
تمھاری ہستی کے لاکھ پہلو
مگر تمھاری صدائوں کی گونج
آج بھی جب زمیں کی مٹی
پہ آخرِ شب
اذانِ صبحِ سفر سنائے
تو خواب کو بھی حقیقتوں کی
جدید صورت میں ڈھال کر
اُن خدائی ہاتھوں کی قوتوں
کا
شعور بخشے
تمھاری طیب حیات کا
سیلِ نور بخشے
سنہری اُس اک صدی کے لمحات
منکشف کرکے حافظے سے ورق
ورق
یوں اُلٹتا جائے
کہ ہم ہمارے گزشتہ کل کو
پرت پرت سامنے سے دیکھیں
ہر ایک غزوے میں تم کو
پائیں
تمھارا وہ نظم و ضبط دیکھیں
تمھارا صبر و قرار دیکھیں
تمھارا جاہ و جلال دیکھیں
تمھاری حکمت کے راز جانیں
تمھاری راہِ فرار کے نقشِ
پا تلاشیں
وجود، بالامتیاز دیکھیں
جہاں بہ نفس نفیس تم خود
مجاہدوں کے مجاہدے میں شریک
شانہ
شبانہ ہوکر عدو کے آگے
ڈٹے ہوئے تھے
تمھاری عمرِ مطہرہ کا وہ
ایک غزوہ
جہاں کاخندق خود اپنے ہمراہ
ساتھیوں کو لیے ہوئے تم نے
خود ہی کھودا اور اپنے دامن
میں
ساری مٹی بھی یوں اٹھائی
کہ گرد نے ہی شکم مبارک کی
جلد ڈھک دی
مثال تم نے ہی دی تھی یوں
پھر
زمانے بھر کو، جفاکشی کی
دکھایا تم نے تمام دنیا کو
زورِ بازو میں کیا فسوں ہے
تمھارے ہاتھوں میں طاقتِ
ماورائی کیا ہے؟
سفید سی وہ چٹان جس پر
کدالیں ٹوٹیں
جو منتظر تھی تمھارے تیشے
کی
تین ضربوں کی، جن کی صورت
گری
کی تفہیم، شام، فارس، یمن
کی
فتح عظیم کا انکشاف ٹھہرا
ہاں وہ ہی غزوہ تمھاری
تنظیم اور
قیادت کا اک ثمر تھا وہ جنگ
تاریخ
کے تسلسل کی اک کڑی تھی
وہ ایک فتحِ مبیں تھی جس کی
تمام یادوں کو تازہ کرتی
وہ مسجدِ فتح جو کھڑی ہے
ہنوز، جبلِ سلع کے دامن میں
دعوتِ حق بلند کرکے
یہ کہہ رہی ہے
یہی ہے عظمت جفا کشی کی
یہی ہے محنت کی سربلندی
یہی تمھاری دعاکی نخلِ اثر
ہے
جس کی گداز صبحیں، ہمارے
آنگن میں آ کے اُتریں
تو زندگی کو جفاکشی کا
ہنر سکھائیں
سنہرے گرد و غبار کی
وہ ردا بنائیں
جو ہم کو اپنے وجود کی
روشنی دکھائے
!

غالب عرفان (کراچی)