مناجات زبان فارسی میں:

مناجات زبان فارسی میں:
فارسی زبان کی شاعری میں مناجات عام طور پر کتب میںموجود ہیں۔ فردوسی اور عطارؔ کے بعد شیخ فرید الدین عطار (م ۱۲۳۰ء) کی مشہور تصنیف ’’منطق الطیر‘‘ کی ابتدا حمد و مناجات سے ہی ہوئی ہے۔ یہ ان کی مشہور زمانہ مثنوی ہے۔ فردوسی کے شاہ نامے میں بھی مناجات موجود ہے۔ مولانا رومیؔ کی شاعری میں کثرت سے جگہ جگہ مناجات کے اشعار ملتے ہیں۔ رومیؔ بارگاہ رب العزت میں مناجات اس طرح پیش کرتے ہیں:
خود ثنا گفتن زمن ترک ثنا ست

کیں دلیل ہستی و ہستی خطاست

اے خدا از فضل تو حاجت روا

با تو یا دہیچ کس نبود روا
شیخ سعدیؔ نے اپنی ’’بوستان‘‘ کے باب دہم کو مناجات کے لیے مخصوص کیا ہے۔
ان کی مشہور زمانہ مناجات ’’کریما‘’ تو زبان عوام و خواص ہوگئی تھی:
کریما بہ بخشائے بر حال ما

کہ ہستم اسیر کمند ہوا
نداریم غیر از تو فریاد رس

توئی عاصیاں راخطا بخش و بس
نگہدار مارا زراہ خطا

خطا در گذارو صوابم نما
اس مناجات میں جو عجز و تضرع کی کیفیت پائی جاتی ہے وہ کسی دوسری مناجات میں ملنا مشکل ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں:
مرا شرمساری بہ روئے تو بس

دگر شرمساری مکن پیش کس
عراقیؔ کی مناجات میں بھی بہت اثر آفرینی کا احساس ہوتا ہے ۔ ان کی مناجات رسمی نہیں معلوم ہوتیں:
راہ باریک ست و شب تاریک و مرکب لنگ د پیر
اے سعادت رخ نمائی واے عنایت دستگیر
ز آفتاب مہر خود حمد مرا نوری ببخش
تا جو ذرہ در فضائے حمد تو یابم مسیر
کے بود گر نور تو روشن شود تیرہ دلم
کے بروز آید شب بیچارۂ خوارِ حقیر
از ہوائے خود بفریادم، اغثنی یا مغیث
در پناہ لطف افتادم، اجرنی یا مجیر