منقبت حضرت امام حسینؓ: عقل میں کہاں طاقت علم میں کہاں وسعت ٭ نظرؔ لکھنوی

عقل میں کہاں طاقت، علم میں کہاں وسعت
کر سکے کوئی کیونکر، مدحِ سبطِ آنحضرتؐ

چاک سینۂ خامہ، دل پہ حالتِ رقت
لکھ رہا ہوں ایسے میں آنجنابؓ کی بابت

آئینہ ہے ماضی کا، سامنے تصور کے
دیکھتا ہوں جو منظر، دل کو اس پہ صد حیرت

دشتِ کربلا میں ہے، آلِ پاک کا خیمہ
بات کیا ہوئی آخر، پیش آئی کیا صورت

پھول کھِل گئے کیسے، ریگزار میں ایسے
ہے یہ ایک اعجوبہ، از عجائبِ فطرت

دوسری طرف دیکھا، دور دور تک دیکھا
لشکرِ یزیدی ہے، بد نہاد و بد طینت

عیش کوش فاسق نے جبریہ یہ چاہا تھا
پاسبانِ دیں کر لیں، شر کے ہاتھ پر بیعت

کام تھا نہ کرنے کا، آپؓ کس طرح کرتے
شیر کے یہ بیٹے ہیں، شیر ہی کی سب خصلت

منہ کو آ گیا باطل، معرکہ ہے باطل سے
حق یوں ہی ہے صف آراء، میں سمجھ گیا علت

فوج ہے نہ لشکر ہے، ساز ہے نہ ساماں ہے
بس خدا پہ تکیہ اور جذبۂ حسینیت

تین دن سے پیاسے ہیں، اہلِ بیت یہ سارے
وقت یہ بھی آ پہنچا، یا نصیب و یا حسرت

معرکہ ہوا برپا، معرکہ ہوا آخر
کلمۂ خداوندی، آخرش لَقد حَقّت

چاند مع ستاروں کے چھپ گیا نگاہوں سے
کائنات سونی ہے، چھا گئی ہے وہ ظلمت

چاند فاطمہؓ کے تھے، چار چاند لگنے تھے
رتبۂ شہادت کی کیا بیان ہو عظمت

اک افق سے غائب ہیں، دوسرے پہ ہیں روشن
موت ان سے ہے لرزاں، کیا خدا کی ہے قدرت

چاہیے تھا خوں طیب، آبیاری دیں کو
منتخب کیا ان کو، ہے خدا کی کیا حکمت

جان بخش دی اپنی، آل بخش دی ساری
عشق بن کے آیا تھا، سائلِ درِ دولت

سب درود پڑھتے ہیں آلِ مصطفیٰؐ تم ہو
حیطۂ بیاں میں کب شانِ عظمت و رفعت

پیروی کو دنیا کی، ہیں نظرؔ یہ دو چیزیں
اک رسولؐ کی سنت، اک حسینؓ کی سنت

٭٭٭
محمد عبد الحمیدصدیقی نظرؔ لکھنوی​