منقبت حضرت آمنہ ولدۂ حضورنبی کریم ﷺ

منقبت حضرت آمنہ ولدۂ حضورنبی کریم ﷺ

مطلع خورشید ایماں آمنہ
منبع انوار عرفاں آمنہ
خلق میں شمع فروزاں آمنہ
رونق دل راحت جاں آمنہ
تیرگی اب مٹ گئی تیرے طفیل
ہوگئی صبح درخشاں آمنہ
گود تیری خلد سے ہے محترم
مصطفی کی جو بنیں ماں آمنہ
تیرے ہی لخت جگر کا ہے طفیل
ہو گئے ہم جو مسلماں آمنہ
مرتبہ تیرا کوئی سمجھے گا کیا
نور حق تھا تجھ میں پنہاں آمنہ
تم جو آئیں مصطفی بھی آگئے
ہوکیا عالم پہ ذیشاں آمنہ
دیکھ کر شمس الضحٰی کو تیرے گھر
ہے نگاہ کفر حیراں آمنہ
سر پہ تیرے نام کی چادر رہے
قیسؔ  کے دل کا ہے ارماں آمنہ

سیدمحی الدین شاہ قیسؔ بمن ہلی