منقبت: خليفۂ چہارم حضرت علی مرتضیٰؓ

ميری زباں پہ منقبتِ بو ترابؓ ہے
خورسند دل مرا ہے خوشی بے حساب ہے

پایا نبیؐ سے شيرِ خدا کا خطاب ہے
معروف وہ بہ کنیتِ بو ترابؓ ہے

نگہِ رسولِ پاکؐ کا وہ انتخاب ہے
خاوندِ نورِ عینِ رسالت مآبؐ ہے

نورِ نبیِؐ پاک سےیوں بہرہ یاب ہے
جیسے ضیائے مہر سے یہ ماہتاب ہے

سر چشمۂ علوم سے وہ فيض ياب ہے
شيخِ حديث و شارحِ ام الکتاب ہے

عالی مقام وہ ہے وہ عالی جناب ہے
پروردۂ نبیؐ ہے فضيلت مآب ہے

دشمن ملائے آنکھ کہاں اتنی تاب ہے
چہرہ پہ وہ جلال ہے وہ رعب داب ہے

دنيائے چند روزہ ميں وہ کامياب ہے
اور آخرت ميں صاحبِ حسن المآب ہے

شہرت رہی ہے اب بھی وہی آب و تاب ہے
دُرجِ صدف ميں ايسا وہ اک دُرِّ ناب ہے

خيبر شکن ہے کفر کو وہ سيلِ آب ہے
مرحب تو اس کے سامنے مثلِ حباب ہے

تلوار کا دھنی ہے اُسی کی ہے ذوالفقار
بھاری ہے دشمنوں پہ يہ وہ شيرِ غاب ہے

شيرِ خدا ہے اس کی فتوت ہے بے مثال
جس جنگ ميں شريک ہوا فتح ياب ہے

زور آوری ميں اس کے مقابل نہيں کوئی
رستم ہے زير پاؤں ميں افراسياب ہے

صفدر ہے، مرتضیٰؓ ہے وہ حيدرؓ ہے وہ علیؓ
وہ بوريہ نشيں شہِ گردوں رکاب ہے

وہ صلح خو ہے يوں تو مگر ہاں دمِ نبرد
دشمن کے سر پہ برقِ بلا ہے عذاب ہے

وہ ہے مزاج دانِ نبیؐ نکتہ رس ہے وہ
وہ بابِ شہرِ علمِ رسالت مآب ؐہے

طاعت ميں اتقا ميں وہ مردِ بلند نام
وہ آسمانِ زہد پہ مثل آفتاب ہے

بينا ہے وہ بصير ہے صاحب نظر ہے وہ
دانا ہے عقل مند ہے حاضر جواب ہے

پُر پيچ مسئلوں کو کيا چٹکيوں ميں حل
اہلِ خرد کو جس ميں بہت اضطراب ہے

پَرتو فگن رہا ہےجو خلقِ نبیِ پاکؐ
ہر اک صفت ميں آپ ہی اپنا جواب ہے

ہجرت کی شب حضورؐ کے بستر پہ مرتضیٰؓ
اف بے نيازِ خطرۂ جاں محوِ خواب ہے

امت پہ اس کی آل کا احساں ہے بے شمار
رطب اللساں کہ جس کا ہر اک شيخ و شاب ہے

گدڑی ميں اپنی مست ہے فقر و غنا کا شاہ
شاہانہ کرّ و فر سے شديد اجتناب ہے

وہ سرفرازِ جامِ شہادت بھی ہے خوشا
مردہ ہے کب وہ زندہ زِ روئے کتاب ہے

تو خاکِ کفشِ پائے علیؓ ہے خوشا نظرؔ
کيا کم ہے اس طرح سے بھی گر انتساب ہے

محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی​