مژدۂ رحمتِ حق ہم کو سنانے والے

مژدۂ  رحمت حق ہم کو سنانے والے
مرحبا آتشِ دوزخ سے بچانے والے
جتنے   اللّٰہ  نے  بھیجے   ہیں      نبی  دنیا  میں
تیری آمد کی خبر سب ہیں     سنانے والے
مجھ سے ناشاد کو پہنچا دے دَرِ احمد تک
میرے خالق میرے بچھڑوں     کے ملانے والے
دلِ ویرانۂ عاشق کو بھی کیجئے آباد
میرے محبوب مَدینے کے بسانے والے
کوئی پہنچا نہ نبی رتبۂ عالی کو ترے
مرحبا! خلد کی زنجیر ہلانے والے
بعد مردن مجھے دِکھلائیں     گے جلوہ اپنا
قبر تیرہ میں     مرے شمع دکھانے والے
قبر میں     آپ کو دیکھا تو رضاؔ نے یہ کہا
دیکھئے! آئے وہ مردوں     کو جلانے والے
حضرت ابوہریرہ کی تھیلی
      حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ کا بیان ہے کہ میں     حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمتِ اقدس میں     کچھ کھجوریں     لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! ان کھجوروں     میں     برکت کی دعا فرما دیجئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان کھجوروں     کو اکٹھا کرکے دعائِ برکت فرما دی اور ارشاد فرمایا کہ تم ان کو اپنے توشہ دان میں     رکھ لو اور تم جب چاہو ہاتھ ڈال کر اس میں     سے نکالتے رہو لیکن کبھی توشہ دان جھاڑ کر بالکل خالی نہ کر دینا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہتیس برس تک ان کھجوروں     کو کھاتے اور کھلاتے رہے بلکہ کئی من اس میں     سے خیرات بھی کر چکے مگر وہ ختم نہ ہوئیں    ۔
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی ھریرۃ،الحدیث:۳۸۶۵، ج۵،ص۴۵۴)