میری آنکھوں میں جو ٹھہرا ہے وہ دریا تو ہے میرے دل سے جو ابلتا ہے وہ چشمہ تو ہے

ایازؔ صدیقی (ملتان)

میری آنکھوں میں جو ٹھہرا ہے وہ دریا تو ہے
میرے دل سے جو ابلتا ہے وہ چشمہ تو ہے

میرا اندازِ نگارش، مرا اسلوبِ سخن
تیری بخشش ہے کہ صورت گر معنیٰ تو ہے

تیری رحمت کی ہے محتاج مسافت میری
میرا رہبر، مری منزل، مرا رستہ تو ہے

اپنے اعمال پہ نادم، تری رحمت پہ نظر
میں برا ہوں کہ بھلا بخشنے والا تو ہے

میرے جذبات نہاں تجھ پہ عیاں ہیں یارب
کچھ کہوں یا نہ کہوں جاننے والا تو ہے

میرے خوابوں کو دیا تونے حقیقت کا لباس
جس نے پندارِ تمنا کو سراہا تو ہے

تو نے بخشا مرے وجدان کو ادراک و شعور
میرا استادِ ازل، اے مرے مولا تو ہے

مجھ سے خائف ہیں زمانے کے بتانِ اوہام
مجھ کو حاصل ہے یہ ایقان کہ میرا تو ہے

از ازل تا بہ ابد تیری عمل داری ہے
پیشِ امروز و پسِ پردۂ فردا تو ہے

تیری تحمید کی دولت سے تونگر ہے ایازؔ
تو ہے سرمایۂ جاں، دل کا اثاثہ تو ہے