میری ہستی ظہور ہے تیرا ذرے ذرے میں نور ہے تیرا

مخمورؔدہلوی

میری ہستی ظہور ہے تیرا
ذرے ذرے میں نور ہے تیرا

نحن واقرب سے ہوگیا ثابت
دل بھی مسکن ضرور ہے تیرا

ان کو کوئی اٹھا نہیں سکتا
جن حجابوں میں نور ہے تیرا

تجھ سے خالی نہیں ہے کوئی دماغ
ذہن میں بھی شعور ہے تیرا

چشم موسیٰ بھی تیری شاہد ہے
معترف کوہ طور ہے تیرا

کبریائی تجھی کو شایاں ہے
تجھ کو زیبا غرور ہے تیرا

گل کی رعنائیوں کے پردے میں
رنگ تیرا ہے، نور ہے تیرا

ہر تڑپ میں سکون پاتا ہے
چین سے ناصبور ہے تیرا

عاصیوں کو نہ کیوں بھروسا ہو
نام ربِّ غفور ہے تیرا

تجھ کو دیکھوں تو آرزو بھی کروں
حسن آنکھوں سے دور ہے تیرا

چشم ساقی پہ منحصر مخمورؔ
نشہ تیرا سرور ہے تیرا