میرے معبود مجھے اپنی محبت دیدے تجھ کو بھولوں نہ کبھی ایسی طبیعت دیدے

یاسؔ چاندپوری

میرے معبود مجھے اپنی محبت دیدے
تجھ کو بھولوں نہ کبھی ایسی طبیعت دیدے
میں محبت کی نگاہوں سے جدھر بھی دیکھوں
تو ہی تو آئے نظر ایسی بصیرت دیدے
ناسمجھ ہیں تیرے بندے انہیں دے عقل وشعور
لطف فرما انہیں نصرت کی بصارت دیدے
جوبدی کرکے سمجھتے ہیں کیا ہم نے کمال
ان کے سوئے ہوئے احساس کو غیرت دیدے
ہاتھ پھیلائوں میں کیوں اپنا کسی کی جانب
جب مجھے میرا خدا رزق کی دولت دیدے
میں تو ڈرتا ہوں بہت حشر کی رسوائی سے
عفو فرما مجھے جنت کی بشارت دیدے
نام تیرا ترے محبوب کا ہو وردِ زباں
میرے مولا تو مجھے ذکر کی دولت دیدے
جو ہیں بندے ترے معذور تری دنیا میں
تو انہیں بہرِ کرم جینے کی طاقت دیدے
بغض کینہ حسد و غم کو مٹادے دل سے
دل کو آئینہ شفاف کی فطرت دیدے
یاسؔ کو آس میں تبدیل کیا ہے میںنے
اے خدا اب تو مجھے حسبِ ضرورت دیدے