میں بے قرار ہوں مجھ کو قرار دے ربی مرا نصیب و مقدر سنوار دے ربی

ڈاکٹرشرف الدین ساحلؔ

میں بے قرار ہوں مجھ کو قرار دے ربی
مرا نصیب و مقدر سنوار دے ربی

ہوا ہے گلشن امید میرا پژمردہ
خزاں کی کوکھ سے فصلِ بہار دے ربی

قدم قدم پہ ہیں خار نفاق و بغض و حسد
اس امتحاں سے سلامت گزار دے ربی

میں مخلصانہ دعا دشمنوں کو دیتا رہوں
تو میرے دل میں وہ جذبہ ابھار دے ربی

میں جو کہوں یا لکھوں سب میں عشق ہو تیرا
میرے خیال کو اتنا نکھار دے ربی

بہت برا ہے گناہوں سے حال ساحلؔ کا
یہ بار سر سے تو اس کے اتار دے ربی