میں تیری حمد لکھوں یہ کمال دے یارب زمانہ جس کی ہمیشہ مثال دے یارب

خوشدلؔ (ہزاری باغ)

میں تیری حمد لکھوں یہ کمال دے یارب
زمانہ جس کی ہمیشہ مثال دے یارب
ہر ایک شے میں نمایاں ہے ترا حسن و جمال
مری نظر کو بھی ذوقِ جمال دے یارب
گناہگار ہوں لیکن میں تیرا بندہ ہوں
مرے گناہ کو اشکوں میں ڈھال دے یارب
کریم تو ہے غفور الرحیم بھی تو ہے
جو ڈگمگائوں تو مجھ کو سنبھال دے یارب
ترے رسولؐ کی امت میں میں بھی ہوں شامل
مجھے بھی تو وہی حبِّ بلالؓ دے یارب
نبیؐ ٔپاک کی عظمت کا واسطہ تجھ کو
تو ان کے خلق سانچے میں ڈھال دے یارب
ترے رسولؐ کی امت ابھی پریشاں ہے
جو آنے والی مصیبت ہے ٹال دے یارب
بکھرنے دوں نہ میں شیرازہ دین کا تیرے
تو اپنے فضل سے کچھ حل نکال دے یارب
حسیں لفظوں کے اشعار کی کروں تجسیم
تو میرے ذہن میں ایسا خیال دے یارب
ترے حبیبؐ کا ادنیٰ غلام ہے خوشدلؔ
تواس کے دل سے ہراک غم نکال دے یارب