میں فنا ہوں بقا بس تری ذات ہے لاشریک اے خدا بس تری ذات ہے

سیدطاہرحسین طاہرؔ

میں فنا ہوں بقا بس تری ذات ہے
لاشریک اے خدا بس تری ذات ہے

تو ہی معبود ہے توہی مسجود ہے
مرحبا مرحبا بس تری ذات ہے

روز اول بھی تو روز آخر بھی تو
ابتدا انتہا بس تری ذات ہے

تجھ کو سجدہ روا تو ہی مختار کل
سب سے برتر خدا بس تری ذات ہے

تیری قدرت کا قرآن شاہد ہے خود
وقف حمد و ثنا بس تری ذات ہے

ساری مخلوق کا تو ہے حاجت روا
وصف جود و سخا بس تری ذات ہے

بالیقیں تونے پیدا کئے دو جہاں
لفظ کن کا صلہ بس تری ذات ہے

تیرے رحم و کرم کا میں محتاج ہوں
اور عطا ہی عطا بس تری ذات ہے

جز تیرے میں کسی سے طلب کیوں کروں
حاصل مدعا بس تری ذات ہے

سب کا مالک ہے تو سب کی سنتا ہے تو
مستجاب الدعا بس تری ذات ہے
تیرا طاہرؔ سراپا گنہگار ہے
پرسش غمزدہ بس تری ذات ہے