میں نے کہی جونعت یہ مجھ پہ کرم ہوا

میں
نے کہی جونعت یہ مجھ پہ کرم ہوا
خوشیوں
کے ڈھیر لگ گئے اوردور غم ہوا
میرے
نبی پہ ختم ہوئیں ساری خوبیاں
پہلے
نہ بعد میں ان سے کوئی محترم ہوا
آمد
نے ان کی ڈال دی توحٰد کی بنا
بت
خانہ اپنی شکل بدل کر حرم ہوا
لکھتے
ہی ان کا نا م مہک اٹھیں انگلیاں
دل
اور ذہن دھل گئے روشن قلم ہوا
حافظ
زمانے بھر نے ستم ڈھائے سینکڑوں
عشق
رسول اپنے دلوں میں نہ کم ہوا
 
حافظ کرناٹکی