میں کون ہوں ستم کش نیرنگ روزگار میں کون ہوں خفائے زمانہ کا اک شکار

حضرت ادیب مالیگانوی مرحوم

میں کون ہوں ستم کش نیرنگ روزگار
میں کون ہوں خفائے زمانہ کا اک شکار
ناکامی حیات سے دل داغ داغ ہے
سینہ بنا ہے خون تمنائے لالہ زار
ہر شے سے ہے عیاں مری افسردگی کا رنگ
گویا ہے کائنات مرے غم میں سوگوار
میں نے خزاں کی گود میں پائی ہے پرورش
شایاں مرے چمن کے نہیں عشرت بہار
مایوسیوں سے دل کا کنول ہے بجھا ہوا
ہے زندگی کو مجھ سے، مجھے زندگی سے عار
اے رب ذوالجلال خداوند کردگار
سن! اک غریب و بیکس و مجبور کی پکار
تو وہ کہ اک اشارۂ چشم کرم ترا
جاری کرے پہاڑ کے سینے سے جوئبار
تو وہ کہ تیری بارش الطاف و رحم سے
ہو سر زمین دشت و بیاباں بھی لالہ زار
تیری رضا اگر ہو چمن بند کائنات
پیدا خزاں کے ساز سے ہو نغمہ بہار
باہر ہے میرے ظرف سے اب امتحان ترا
اے ذوالکریم! جوش کرم ہے کہاں ترا
وہ رحمت تمام کہ ہے تیری شان خاص
یارب ادیبؔ کو بھی اسی کا ہے انتظار