نام بھی تیرا عقیدت سے لئے جاتا ہوں

اقبالؔ عظیم

نام بھی تیرا عقیدت سے لئے جاتا ہوں
ہر قدم پہ تجھے سجدے بھی کئے جاتا ہوں

کوئی دنیا میں مرا مونس و غم خوار نہیں
تیری رحمت کے سہارے پہ جیے جاتا ہوں

تیرے اوصاف میں اک وصف خطاپوشی ہے
اس بھروسے پہ خطائیں بھی کئے جاتا ہوں

آزمائش کا محل ہو کہ مسرت کا مقام
سجدۂ شکر بہرحال کئے جاتا ہوں

زندگی نام ہے اللہ پہ مرمٹنے کا
یہ سبق سارے زمانے کو دئے جاتا ہوں

صبر کرنا ہے تری شان کریمی کوعزیز
میں یہی سوچ کے آنسو بھی پئے جاتا ہوں

ہر گھڑی اس کی رضا پیش نظر ہے اقبالؔ
شکر ہے ایک سلیقے سے جئے جاتا ہوں