ندی جھرنا تالاب کہسار تیرا ہر اک شے سے ہوتا ہے اظہار تیرا

مائل میرٹھی

ندی جھرنا تالاب کہسار تیرا
ہر اک شے سے ہوتا ہے اظہار تیرا
ستارا ہو خورشید ہو یا قمر ہو
کیا ہے ہراک شے میں دیدار تیرا
وہ مکّہ کی ہوں یا مدینے کی گلیاں
ہر اک سو ہے جلوہ ضیابار تیرا
ہوا آشنا جب حقیقت سے اپنی
کیا خود میں ہی میں نے دیدار تیرا
پڑا سابقہ جب بھی دردو الم سے
مرے لب پہ نام آیا ہر بار تیرا
نہیں ہوں میں مایوس تیرے کرم سے
ہے رب یذل اسم غفار تیرا
تری رحمتوں پر نگاہیں لگی ہیں
ہے بخشش کا طالب گنہ گار تیرا
بچائے گا تو مجھ کو شرمندگی سے
لگے گا جو محشر میں دربار تیرا
کبھی حق سے آنکھیں نہ موندے گا مائلؔ
سنائے گا نغمہ سرِدار تیرا