نعتیہ اشعار اور مصرعوں پر ’’ضرب المثل‘‘ کا اطلاق نعت کے تقدّس کے منافی نہیں

نعتیہ اشعار اور مصرعوں پر ’’ضرب المثل‘‘ کا اطلاق نعت کے تقدّس کے منافی نہیں

خیام العصر، محسن اعظم محسنؔ ملیح آبادی

اکتّیس مئی سنہ دوہزار پندرہ عیسوی کو موقّر ’’اخبارجسارت‘‘ کے سنڈے میگزین میں طاہرحسین طاہرسلطانی صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’اُردو کے ضرب المثل اور رُوح پرور نعتیہ اشعار‘‘ شائع ہوا تھا۔ بقول ادارۂ اخبار جسارت: ’’بعض اہلِ علم نے اس عنوان کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ نعت کے اشعار پر ’’ضرب المثل‘‘ کا اطلاق کرنا نعت کے تقدّس کے منافی ہے۔ پھر جو اشعار اس مضمون میں پیش کیے گئے تھے، انہیں تو آج کے قاری کے لیے پڑھنا مشکل ہے، چہ جائے کہ انہیں ’’ضرب المثل‘‘ کا نام دیا جائے۔ اس لیے ہم نے اس مرتبہ مضمون کے عنوان کا پہلا جزو حذف کردیا ہے۔‘‘

راقم الحروف سے کچھ قارئین اخبار جسارت نے پوچھا ہے۔ کیا زباں زد خلائق نعتیہ اشعار گفتگو میں حسبِ موقع بطور ضرب المثل استعمال نہیں کرسکتے۔ ان سے نعت کا تقدّس مجروح ہوتا ہے اور قدیم شعراء کے مشہور اشعار غیرمروّج زبان ہونے کے بعد ضرب المثل نہیں ہے۔

بعض اہلِ علم کا یہ کہنا کہ ضرب المثل کا اطلاق نعت کے اشعار پر کرنا نعت کے تقدس کے منافی ہے، میری نظر میں درست نہیں۔ یہ موشگافی کے مترادف ہے اور غیرعقلی منطق ہے۔ علم بیان میں اس کی قید نہیں۔ بطور ضرب المثل مجازی مفہوم میں نعتیہ اشعار اور مصاریع ہی نہیں، قرآنی آیات اور جملے بھی بطور ضرب المثل بولے اور لکھے جاتے ہیں۔ اس کی مثالیں مقررین کی تقاریر اور نثری کتب میں ملتی ہیں۔ روزمرہ بول چال کا وہ حصّہ بن چکے ہیں اور بنتے رہیں گے۔ جن بعض اہلِ علم نے اس جانب توجہ دلائی ہے شاید وہ اپنے آپ ہی کو آدابِ نعت اور عقیدتِ ختمی مرتبتﷺ کا اہل سمجھتے ہیں۔ وہ دوسروں کے دِلوں کا محاسبہ کس طرح کرسکتے ہیں؟

’’انما الاعمال بالنیات‘‘ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ دوسروں کو آدابِ نعت کے تقدس سے حارج سمجھنا سوئے ظن کے سوا کچھ نہیں۔ لاکھوں خطیب اور مصنف و مؤلف بطور ضرب المثل سیکڑوں شعر اور مصرع پڑھتے ہیں اور لکھتے ہیں۔ ’’ضرب المثل‘‘ وہ جملہ ہوتا ہے جوبطور قول اور کہاوت حسبِ موقع بولا جاتا ہے تاکہ بیان میں زور پیدا ہوجائے اور کہی ہوئی بات کی وضاحت ہوجائے۔ قرآنی آیات اور قرآنی جملے مجازی طور پر اکثر اہلِ علم و فضل بولتے ہیں۔ چند مثالیں دیکھیے:

’’ھواللہ احد‘‘ ربِّ کائنات کی یکتائی کے اظہار کے لیے بولا جاتا ہے۔ دُنیا کی بے ثباتی اور فانی ہونے کی گفتگو میں کثرت سے سننے میں آتا ہے ’’کل نفسٍ ذائقۃ الموت‘‘ ہر ایک کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ دوسرے مذاہب سے لاتعلقی کے ضمن میں باربار بولا جاتا ہے ’’لکم دینکم ولی دین‘‘ ربِّ عالم انسان سے نزدیک تر ہے کو زوردار بنانے کے لیے کہتے ہیں ’’نحن اقرب من حبل الورید‘‘ مایوسی و محرومی کے وقت عام طور پر بولا جاتا ہے ’’لاتقنطوا من رحمتہ اللہ‘‘ انتشار اور تفریق کے موقع پر کہتے ہیں ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعًا ولاتفرقوا‘‘ اسی طرح محاورات قرآن بھی اکثر گفتگو میں بولے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں اشعار اور مصرع بھی مستعمل ہیں۔ مثلاً:

حضورختمی مرتبتﷺ کے جامع الصفات ہونے پر یہ شعر عام طور پر ضرب المثل پڑھتے ہیں   ؎

حُسنِ یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضا داری

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

عظمتِ رسولﷺ کے ضمن میں مقررین اور مصنف عام طور پر بولتے اور لکھتے ہیں۔

لایمکن الثناء کما کان حقہٗ

بعد از خدا بزرگ توئی قصّہ مختصر

اسی تناظر میں خاتم الانبیاءﷺ کی تعریف کے موقع پر بطور ضرب المثل، شیخ سعدی کا مندرجہ ذیل شعر پڑھتے ہیں۔ یہ ایک فرد ہے، لوگ اسے رُباعی یا قطعہ لکھتے ہیں یہ اُن کی لاعلمی ہے۔

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ ، صلّوا علیہ والہٖ

علامہ اقبال کی مشہور مسدّس ’’شکوہ جواب شکوہ‘‘ میں سے یہ شعر، حضورﷺ کی اطاعت اور محبت کے ضمن میں اکثر پڑھا جاتا ہے۔

کی محمدﷺ سے وفا تُونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

طاہرسلطانی نے جو اشعار مذکورہ مضمون میں لکھے ہیں ان میں کچھ ایسے ہیں جو مجازی طور پر ’’ضرب المثل‘‘ ہیں اور کچھ ’’رُوح پرور‘‘ اشعار، یعنی بہت زیادہ پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں۔ حضورکریمﷺ کی نعت میں جو شعر بھی ہے وہ استحسانی ہوتا ہے۔ دراصل رُوح پرور اشعار سے بھی مجازی طور پر یہ مراد لی جائے گی کہ لفظیات، فکر اور بیان کے اعتبار سے زیادہ پسندیدہ ہیں اس لیے انہیں رُوح پرور کا نام دیا گیا ہے۔

اکتّیس مئی ۲۰۱۵ء کے سنڈے میگزین میں جو اشعار ’’ضرب المثل‘‘ اور رُوح پرور ہیں وہ یہ ہیں:

مصحف کو نہ کیوں فخر ہو اس صورت پر

قرآن سے پہلے یہ کتاب آئی ہے

٭

رہے نامِ محمدﷺ لب پہ یارب اوّل و آخر

اُلٹ جائے بوقتِ نزع جب سینے میں دم مرا

٭

وہ ریشِ پاک اور رُخِ سردار انبیا

گویا دھرا تھا رحل پہ قرآں کھُلا ہوا

٭

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

٭

تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں

اب ہونے لگیں ان سے خلوت میں ملاقاتیں

٭

لوگ کہتے ہیں کہ سایہ ترے پیکر کا نہ تھا

میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا

٭

آپ نے بخشا بشر کو حُسنِ سیرت کا ہنر

آگیا اس کو شعور آدمیت کا ہنر

٭

سبوئے جاں میں چھلکتا ہے کیمیا کی طرح

کوئی شراب نہیں عشقِ مصطفیﷺ کی طرح

٭

کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے

یہ سب تمہارا کرم ہے آقا جو بات اب تک بنی ہوئی ہے

٭

ایسا کوئی محبوب نہ ہوگا نہ کہیں ہے

بیٹھا ہے چٹائی پہ مگر عرش نشیں ہے

جناب طاہرسلطانی نے جو اشعار لکھے ہیں ان میں اکثر شعروں اور مصرعوں کا ضرب المثل میں شمار ہوگا اور پورا شعر ’’رُوح پرور‘‘ میں شامل کیا جائے گا۔ آخر میں پھر عرض کروں غیرمنطقی موشگافی فعل احسن نہیں۔ بطور مجازی حسبِ موقع بعض شعر اور مصرع ضرب المثل سمجھ لیے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں ورنہ ضرب المثل ایک خاص جملہ ہوتا ہے جس میں علامت مصدر کا ہونا ضروری ہے۔ عربی نثری کتابوں میں بہت سے نعتیہ شعر اور مصاریع مجازاً ’’ضرب المثل‘‘ کی صورت میں لکھے جاتے ہیں اور لکھنے والے عاشقِ رسولﷺ اور متبحر علماء اور ادیب ہیں۔ مضمون طویل ہوجانے کے باعث ان کی مثالیں میں نے نہیں دی ہیں۔

٭٭٭